صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 204 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 204

صحيح البخاری جلد ) ۲۰۴ ٣- كتاب العلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللهُ مُوسَى ﷺ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے ہم تو چاہتے تھے لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ که کاش وہ صبر کرتے تا اُن دونوں کا حال ہم سے أَمْرِهِما ۔ بیان کر دیا جاتا۔ اطرافه: ٧٤، ٧٨ ۲۲٦٧، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ۳۴۰۰، ۳۴۰۱، ٤٧٢٥، ٤٧٢٦، ٤٧٢٧، ٦٦٧٢، ٧٤٧٨۔ يَكِلُ الْعِلْمَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى : یہ حدیث مختصر طور پر اس سے پہلے بھی گزر چکی ۔ الزر چلی ہے۔ روایت عباس اور حضر بن قیس کے جھگڑے کا ذکر ہے اور اس میں موضوع نزاع حضرت موسیٰ کے ساتھی ہیں۔ آیا وہ خضر تھے یا کوئی اور روایت نمبر ۱۲۲ میں سعید بن جبیر حضرت ابن عباس سے ذکر کرتے ہیں کہ نوف بکالی کا یہ خیال ہے کہ موسیٰ جس کا واقعہ خضر کے ساتھ ہوا، وہ بنی اسرائیل کے موسیٰ انہیں تھے کوئی اور تھے اور دونوں اختلافات کا حل حضرت ابی بن کعب کی روایت سے کیا گیا ہے۔ اس روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت ابی بن کعب کو جو اس وقت ان کے پاس سے گزر رہے تھے، بلایا اور پوچھا اور یہ روایت بیان کرتے ہوئے حضرت ابن عباس نے حضرت ابی بن کعب کا حوالہ دیا۔ یعنی حضرت اُبی نے ہم سے بیان کیا ۔ امام اب سے بیان کیا۔ امام ابن حجر اس سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ دو جدا جدا واقعات ہیں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۸۹) حضرت حر بن قیس کا اختلاف حضرت ابن عباس سے ہے اور سعید بن جبیر کا اختلاف نوف بکالی سے ہے۔ لیکن ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ کہ روایت ۷۸۷۴ میں حضرت ابی ابن کعب واقعہ بیان کرتے ہوئے مُوسَى النَّبِی نہیں کہتے اور جب حضرت ابن عباس ان کا حوالہ دے کر واقعہ بیان کرتے ہیں تو موسی النَّبِی کہتے ہیں۔ یہ اس لئے وضاحت کی کہ سعید بن جبیر کا سوال حضرت ابن عباس سے موسیٰ نا سے موسیٰ نبی کے متعلق تھا جیسا کہ روایت نمبر ۷۸۷۴ کے یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں: الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إلى لقيه ۔ دوسرا امر قابل غور یہ ہے کہ سابقہ روایتوں میں حضرت ابی بن کعب کی طرف یہ الفاظ منسوب نہیں کئے گئے : فَعَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ لَمْ يَرُدّ الْعِلْمَ إِلى اللهِ ۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر سعید بن جبیر سے واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت ابن عباس نے یہ الفاظ کہے ہوں اور عبید اللہ بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس کا جھگڑا بیان کرتے ہوئے اُبی کے یہ الفاظ نہ سنے ہوں یا سنے ہوں اور بھول گئے ۔ تیسرا امر قابل غور یہ ہے کہ عبید اللہ کی دونوں روایتوں میں یہ الفاظ ہیں۔ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ اور سعید بن جبیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: آئی النَّاسِ أَعْلَمُ وہاں حضرت موسیٰ کا جواب نفی میں اور یہ ہے اور یہاں ہے : أَنَا أَعْلَمُ ۔ چوتھا اور سب سے زیادہ قابل غور امر یہ ہے کہ راوی به راوی حضرت ابن عباس ابن عباس کی طرف یہ الفاظ منسوب کرتا ہے: وَكَانَ لِمُوْسَی وَفَتَاهُ عَجَبًا۔ یعنی جب پچھلی سمندر میں چلی گئی تو حضرت موسیٰ اور یوشع دونوں کو تعجب ہوا۔ حالانکہ مچھلی کے چلے جانے ۔ جانے کے وقت ان کو ان کو علم بھی نہیں ہوا تھا۔ علم تو انہیں اس بھی نہیں ہوا تھا۔ علم تو انہیں اس وقت ہوا جب حضرت موسی نے کھانا مانگا اور سابقہ روایتوں میں یہ الفاظ نہیں۔ وہاں اس کو مختصر بیان کرتے ہوئے تو مربیان کرتے ہوئے قرآن مجید کے بیان کی طرف اشارہ کیا ہے اور قرآن مجید میں بھی یہ ذکر اس طرح پر نہیں۔