صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 195
صحيح البخاری جلد ا ۱۹۵ ٣- كتاب العلم (البقرة: ١٦١١٦٠) إِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ پڑی: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ ۔۔۔۔ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ تک ۔ * ہمارے بھائی بِالْأَسْوَاقِ وَإِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ مہاجرین کو تو منڈیوں میں خرید و فروخت مصروف كَانَ يَشْغَلُهُمُ الْعَمَلُ فِي أَمْوَالِهِمْ وَإِنَّ رَکھتی اور ہمارے بھائی انصار کو ان کی جائدادوں کے أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَلْزَمُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى متعلق کام کاج مصروف رکھتا تھا اور ابو ہریرہ اپنا پیٹ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَعِ بَطْنِهِ وَيَحْضُرُ مَا پھر کر رسول اللہ ﷺ سے لپٹا رہتا تھا اور وہ ان لَا يَحْضُرُوْنَ وَيَحْفَظُ مَا لَا يَحْفَظُوْنَ۔ موقعوں پر حاضر رہتا جہاں وہ حاضر نہ ہوتے اور وہ الله باتیں یاد رکھتا جو وہ یاد نہ رکھتے ۔ اطرافه ۱۱۹ ، ۲۰۱۷، ٢۳۵۰، ٣٦٤٨، ٧٣٥٤۔ ۱۱۹ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ۱۱۹ ہم سے احمد بن ابی بکر ابو مصعب نے بیان کیا، أَبُو مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کہا: محمد بن ابراہیم بن دینار نے ہمیں بتلایا۔ انہوں إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِنْبِ نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، کہتے صا الله عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سعید نے۔ بد نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ وہ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَسْمَعُ تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ میں آپ سے مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ قَالَ ابْسُطُ بہت باتیں سنتا ہوں ۔ انہیں بھول جاتا ہوں۔ فرمایا: رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ قَالَ فَعَرَفَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ اپنی چادر پھیلا۔ میں نے پھیلا دی۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بھر قَالَ ضُمَّهُ فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيْتُ شَيْئًا بَعْدَهُ۔ کر ڈالا۔ پھر فرمایا: اس کو اکٹھا کرلو۔ میں نے اسے اکٹھا کر لیا۔ اس کے بعد میں کوئی بات نہ بھولتا تھا۔ ترجمہ: یقینا وہ لوگ جو اُسے چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا، اس کے بعد بھی کہ ہم نے کتاب میں اس کو لوگوں کے لیے خوب کھول کر بیان کر دیا تھا۔ یہی ہیں وہ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور ان پر سب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں ۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور (اللہ کے نشانات کو) کھول کھول کر بیان کیا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن پر میں تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکوں گا۔ اور میں بہت تو بہ قبول کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہوں ۔}