صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 193 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 193

صحيح البخاري - جلد ) الْأَرْضِ أَحَدٌ۔ اطرافه: ٥٦٤، ٦٠١ ۱۹۳ ٣- كتاب العلم لوگ بھی سطح زمین پر موجود ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ ۱۱۷ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۷ : ہم سے آدم نے بیان کیا۔ کہا: شعبہ نے ہم شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حکم نے ہمیں بتلایا۔ کہا: سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُ میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے : میں اپنی فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُوْنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ خاله حضرت میمونہ بنت حارث کے گھر سویا جو کہ نبی زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ کی بیوی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صلى الله علیہ نے عشاء وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باری کی رات اُن کے ہاں تھے۔ نبی ۔ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى کی نماز پڑھی۔ پھر اپنے گھر آئے اور چار رکعتیں نماز اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى پڑھی۔ پھر سو گئے۔ اس کے بعد اُٹھے اور فرما اور فرمایا: یہ ننھا سو گیا ہے۔ یا کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا جو اس سے ملتا جلتا مَنْزِلِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ تھا۔ اس کے بعد آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہو قَامَ ثُمَّ قَالَ نَامَ الْغُلَيْمُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا گئے اور میں بھی آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ نے مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا اور پانچ رکعتیں نماز يَمِينِهِ فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّی پڑھی۔ پھر دور کعتیں نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ سو رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيْطَهُ گئے ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ کے خرانٹے سنے۔ غَطِيْطَهُ ( کہا ) يا خَطِيطَهُ ( یعنی خرانٹے کی آواز ) پھر أَوْ خَطِيْطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ۔ آپ نماز کے لیے باہر گئے۔ اطرافه ۱۳۸، ۱۸۳، 697، 698، ٦٩٩، ٧٢٦، ٧٢٨، 85٩، 1198، 4569، ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ، ٤٥٧٢ ، ٥٩١٩، ٦٢١٥، ٦٢١٦ ، ٧٤٥٢۔ تشريح : فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ: حدیث نمبر ۱۱۶ میں ایک پیشگوئی کا ذکر ہے جو علم غیب پر بنی ہے اور وہ نہایت صحت کے ساتھ پوری ہوئی۔ ایک سو سال کے اختتام پر آخری صحابی حضرت ابو الطفيل عامر بن واثلہ فوت ہوئے یعنی ادھ میں ۔ وت ہوئے یعنی ادھ میں ۔ آپ نے یہ پیشگوئی اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے کی ، جیسا کہ حضرت جابر کی روایت میں اس کی صراحت ہے دیکھئے فتح الباری جزء دوم صفحہ ۹۹ - کتاب مواقيت الصلوۃ باب ۴۰، تشریح روایت نمبر (۶۰)