صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 190 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 190

صحيح البخاری جلد ا ۱۹۰ ٣- كتاب العلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم بھولو نہیں ۔ حضرت وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوا عمر نے کہا: نبی ﷺ پر بیماری نے غلبہ کیا ہے ۔ اور صلى الله وَكَثُرَ اللَّغَطُ قَالَ قُوْمُوْا عَنِّي وَلَا يَنْبَغِي ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمارے لیے کافی عِنْدِي التَّنَازُعُ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ ہے۔ اس پر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور شور بہت ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: اُٹھو میرے پاس سے يَقُوْلُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ چلے جاؤ۔ میرے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔ اس پر بَيْنَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس باہر چلے گئے۔ گئے ۔ وہ کہا کرتے تھے: وَبَيْنَ كِتَابِهِ ۔ بڑا نقصان سارے کا سارا یہی ہے کہ رسول اللہ عروسہ کو لکھنے سے روک دیا۔ اطرافه ٣٠٣٥، ٣١٦٨، ٤٤٣١ ، ٤٤٣٢، ٥٦٦٩، ٧٣٦٦ لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ : آپ نے روایت نمی آپ نے روایت نمبر ۱۱۴ لاکر یہ امر واضح کر دیا ہے کہ آخری وقت میں بھی تشریح آنحضرت صلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی فکر رہی : لَا تَضِلُّوا بَعْدَہ کہ کہیں تم بھول نہ جاؤ تحریر لکھ دوں ۔ ضلال کے معنی بھولنا، بھول کر راہ سے بے راہ ہو جانا۔ (لسان العرب تحت لفظ ضلل) إِثْتُونِي بِكِتَابِ : کتاب سے مراد کوئی لکھنے کی چیز۔ غَلَبَهُ الْوَجَعُ : یعنی آپ کو بیماری نے نڈھال کر دیا ہے ۔ کہیں تکلیف بڑھ نہ جائے اور آپ کے فوت ہو جانے کا تو وہم بھی حضرت عمر کو نہیں تھا۔ عِنْدَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا حضرت عمرؓ نے یہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْء (الأنعام: ۳۹) تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْى (النحل : ۹۰) یعنی یہ کتاب ہر بات کو واضح کر کے بیان کرتی ہے۔ ہم نے اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ نگامہ لَا يَنبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ : یعنی بعض لوگ جن کے جذبات حضرت عمر کی طرح رقیق تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں تکلیف نہیں دینی چاہیے اور بعض نے کہا کہ حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چلے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میرے پاس شور نہ کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کتاب اللہ کی عزت کا اس حالت بے قراری میں بھی اس قدر پاس تھا کہ حضرت عمرؓ کی بات سننے کے بعد کاغذ قلم ، دوات منگوانے کا اعادہ نہیں فرمایا۔ جیسا کہ بخاری کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوگا کہ آپ اس واقعہ کے بعد بھی چند روز زندہ رہے اور اس دن کچھ اور وصیتیں بھی کیں ہیں ۔ مگر اس خیال کا اعادہ نہیں فرمایا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن احکام کے لکھوانے کی ضرورت سمجھی تھی وہ کتاب اللہ میں موجود تھے گویا کہ قرآن ؟ ن مجید سے چمٹے رہنے کی تاکید فرمانا چاہتے تھے اور آپ نے حضرت عمر کی تائید کی اور خاموش ہور ہے۔ یہ وہ ادب ہے جس کی پروا نام نہاد علماء کو نہیں ہوتی۔ ایک رائے کا جو اظہار کر بیٹھیں تو پھر وہ اسے وحی الہی کی طرح سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس پاکیزہ نمونہ کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے۔ کتاب اللہ کے سامنے سب دوسری باتیں کالعدم ہیں۔