صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 171
صحيح البخاري - جلد ا ٣- كتاب العلم میرے بعد پھر کا فرنہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو۔یہ کہہ کر آپ نے دو بار فرمایا: أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ۔امام بخاری نے یہ باب باندھ کر مذکورہ بالا حدیثوں کی طرف جو اشارہ کیا ہے تو اس امر کے جتانے کے لئے کہ آپ موقع محل کی اہمیت و تقاضا کے مطابق بات دہرایا کرتے تھے تا وہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے یا کسی گناہ کے متعلق جذبات نفرت کو اچھی طرح ابھار دیا جائے یا جو بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی اس کا بھی اعادہ فرماتے تھے۔السلام علیکم کو بھی مناسب موقع پر دہراتے۔مثلاً اگر کسی کے گھر پر تشریف لے گئے ہیں اور اندر سے جواب نہیں آیا ہے تو پھر آپ نے اس تحیہ سلام کو دہرایا ہے یا کسی بڑی مجلس میں تشریف لے گئے ہیں تو اس کے مختلف حصوں میں گذرتے ہوئے تین دفعہ السلام علیکم کہا ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو پیش کر کے تعلیم کے ضمن میں چوبیسواں ادب سکھلایا گیا ہے کہ معلم کا فرض ہے کہ وہ یہ بھی دیکھے کہ سنے والے اس کی بات کو سمجھے بھی ہیں یا نہیں اور یہ کہ بات اچھی طرح ان کے ذہن نشین بھی ہو گئی ہے یا نہیں۔طلباء جو زیادہ تر بات بھول جاتے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسا تذہ اپنی تعلیم میں اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔وَيْلٌ لِلاعْقَابِ مِنَ النَّارِ : یہ واقعہ روایت نمبر ۲۰ میں گزر چکا ہے۔وہاں ابو نعمان راوی ہیں یہاں مسدد۔آپ کے یہ الفاظ بد دعائیہ نہیں ہیں بلکہ محض بطور انذار کے ہیں۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء، روایت ۱۶۵۔بَاب ۳۱: تَعْلِيْمُ الرَّجُلِ أَمَتَهُ وَأَهْلَهُ آدمی کا اپنی لونڈی اور اپنے اہل بیت کو تعلیم دینا ۹۷: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامِ ۹۷: ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ( کہا: ) محاربی حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: صالح بن حیان نے ابْنُ حَيَّانَ قَالَ قَالَ عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ہم سے بیان کیا۔کہا: عامر شعبی کہتے تھے کہ ابو بردہ حَدَّثَنِي أَبُوبُرْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی ہیں انہیں دہرا اجر ملے گا۔وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہے لَّهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ اور اس نے اپنے نبی کو مانا اور محمد (ﷺ) کو بھی مانا آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ اور وہ بندہ جو کسی کا غلام ہو اس کو بھی دہرا اجر ملے گا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْكُ إِذَا أَدَّى بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے مالکوں کا حق ادا حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيْهِ وَرَجُلٌ كَانَتْ کرتا ہو اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو تو وہ