صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 172 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 172

صحيح البخاري - جلد ) ۱۷۲ ٣- كتاب العلم عِنْدَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيْبَهَا اسے سکھلائے اور اس کو تعلیم دے اور نہایت اچھی وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا تعلیم دے اور پھر اس کو آزاد کر دے اور اس سے فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ثُمَّ قَالَ عَامِرٌ شادی کرلے تو ایسے شخص کو بھی دو اجر ملیں گے۔یہ أَعْطَيْنَاكَهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ قَدْ كَانَ يُرْكَبُ روایت کر کے عامر کہتے تھے : ہم نے تمہیں یہ حدیث فِيْمَا دُونَهَا إِلَى الْمَدِينَةِ۔مفت دے دی۔اس سے چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے سوار ہو کر مدینہ تک جانا پڑتا تھا۔اطرافه: ٢٥٤٤، ۲٤٧، ۲۰۰۱، ٣۰۱۱، ٣٤٤٦، ٥٠٨٣۔تشریح : تَعْلِيمُ الرَّجُلِ اَمَتَهُ وَأَهْلَهُ : باب مذکور کے ذیل میں جوحدیث لائی گئی ہے۔اس میں آمَةٌ یعنی لونڈی کی تعلیم کا ذکر ہے اور عنوان باب میں (وأهل ) بیوی کی تعلیم کا بھی ذکر ہے۔یہ استنباط اس قاعدہ کے مطابق کیا گیا ہے کہ جب اونی شخص کی تعلیم کے متعلق اس قدر تاکید ہے تو اعلیٰ شخص کی تعلیم بدرجہ اولی ضروری ہوئی۔فَتَزَوَّجَهَا کا جملہ بالصراحت بتلاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم لونڈیوں کے بارے میں کیسی واضح اور کتنی اعلیٰ ہے۔وہ انہیں تعلیم یافتہ آزاد منکوحہ عورت کی حیثیت دینا چاہتی ہے اور مسلمان کے گھر کو علم کے نور سے روشن کرنے کی تلقین کرتی ہے۔وہ حرم سرا جو بعد کے زمانہ میں لونڈیوں سے بھرے ہیں، اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے انداری پیشگوئی کر دی تھی (دیکھیں حدیث نمبر ۵۰) علم و تعلیم کے ضمن میں پچیسواں ادب یہ سکھلایا گیا ہے کہ مرد کو اپنے اہل بیت کی تعلیم کا اہتمام کرنا چاہیے۔باب ۳۲: عِظَةُ الْإِمَامِ النِّسَاءَ وَ تَعْلِيْمُهُنَّ امام کا عورتوں کو نصیحت کرنا اور انہیں تعلیم دینا ۹۸: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ :۹۸ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوْبَ قَالَ سَمِعْتُ شعبہ نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا عَطَاءً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسِ قَالَ کہ انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے سنا۔انہوں نے أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے حضرت ابن عباس سے سنا وہ کہتے تھے: أَوْ قَالَ عَطَاءٌ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاس میں نبی ﷺ سے متعلق شہادت دیتا ہوں یا عطاء نے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں حضرت ابن عباس کے متعلق شہادت دیتا خَرَجَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِع ہوں کہ انہوں نے کہا : ) رسول اللہ ﷺ باہر گئے اور