صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 170 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 170

صحيح البخاری جلد ) ۱۷۰ ٣- كتاب العلم ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: انہوں نے حضرت انس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کے متعلق بیان بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ کیا کہ آپ جب کوئی بات کرتے تو اسے تین بار وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ دہراتے حتی کہ وہ آپ سے سمجھ لی جاتی اور جب آپ کسی قوم کے پاس آتے تو تین بار السلام علیکم عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا اطرافه: ٩٤، ٦٢٤٤۔ کہتے۔ ٩٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۶ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے ہمیں أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ جلایا۔ انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے یوسف بن سے، یوسف نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے مَاهِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ایک تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلى الله روایت کی ۔ وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں پیچھے رہ گئے جو کہ ہم نے کیا تھا۔ پھر آپ ہم سے آملے وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ اور حالت یہ تھی کہ ہم نماز میں یعنی نماز عصر میں اتنی دیر کر أَرْهَقْنَا الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ وَنَحْنُ چکے تھے ( کہ دوسری کا وقت بھی شروع ہونے کو تھا ) اور نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ہم ابھی وضو ہی کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر ہم نے اپنے فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ پاؤں کو یونہی پانی سے پونچھنا شروع کر دیا۔ اس پر آپ نے بلند آواز سے پکارا۔ ہائے شامت ! ان ایڑیوں کی النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ اطرافه: ٦٠، ١٦٣۔ آگ سے۔ دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔ تشريح : أَلا وَقَوْلَ الزُّورِ : یہ ایک حدیث کا کٹا ہے جو امام بخاری نے بخاری نے کتاب الشهادات ، باب ماقيل في قول الزور میں موصولاً نقل کیا ہے ۔ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلاثًا، تین بار پوچھا: کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں؟ صحابہ نے کہا: بتلائیے ۔ فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ یہ کہہ کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا : أَلَا وَقَوْلَ الرُّورِ ۔ آپ نے یہ جملہ اتنی بار دہرایا کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے چاہا کاش آپ خاموش ہو جائیں۔ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ : یہ اس خطبہ کے آخری الفاظ ہیں۔ جو آپ نے حجۃ الوداع میں پڑھا اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں اسی طرح معزز ہیں جیسے تمہارا یہ دن ۔ دیکھنا !