صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 164
صحيح البخاری جلد ) ۱۶۴ ٣- كتاب العلم ه تشریح : كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ : آنحضرت صلی الہ علیہ سل نے یہ فیل اس اصل پرفرمایا کہ د علم پر علم کو ریح دی جاتی ہے۔ وہ عورت کہتی ہے کہ میں نے دودھ پلایا تھا اور حضرت عقبہ لاعلمی کا ا لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ امام بخاری اس واقعہ سے ایک سبق سکھلاتے ہیں۔ اکثر لوگ صحیح معلومات حاصل کرنے میں سستی و تساہل سے کام لیتے ہیں اور شہادت کو یقین سے تبدیل کرنے میں پرلے درجہ کی کوتاہی اور غفلت برتتے ہیں اور یہ تقویٰ کے بالکل خلاف ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو ایک بات سے شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق مسئلہ کے لئے فوراً سوار ہو کر آنحضرت علی کے پاس حاضر ہوتے اور اپنے شبہ کا ازالہ کرتے ہیں۔ یہی شان ہر مومن کی ہونی چاہیے۔ یہ تحصیل علم کے ضمن میں بیسواں ادب ہے۔ حضرت عقبہ کے سفر اختیار کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس عورت کی بات غلط معلوم نہیں ہوئی۔ بَاب ۲۷ : التَّنَاوُبُ فِي الْعِلْمِ علم حاصل کرنے کے لئے آپس میں باری مقرر کرنا ۸۹ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ۸۹ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ شعیب نے عَنِ الزُّهْرِيِّ حٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ ابو عبد الله (بخاری) نے کہا: نیز ابن وہب نے کہا کہ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي یونس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ثَوْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی ثور سے، عبید اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے، حضرت قَالَ كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ فِي ابن عباس نے حضرت عمرؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتے بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهِيَ مِنْ عَوَالِي تھے کہ میں اور انصار میں سے میرا ایک پڑوسی بنوامیہ الْمَدِينَةِ وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى بن زید میں رہتے تھے اور یہ مدینہ کے ان گاؤں میں الله رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ سے ہے جو آس پاس اونچی جگہ پر واقع تھے اور ہم يَوْمًا وَأُنْزِلُ يَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ باری باری رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے ۔ ایک بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ دن وہ جاتا اور ایک دن میں جاتا اور جب میں جاتا تو وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فَنَزَلَ میں اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اس کے پاس لاتا صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَضَرَبَ اور جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ (ایک دفعہ )