صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 163 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 163

صحيح البخاری جلد ا ۱۶۳ ٣- كتاب العلم یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو جوتعلیم دیتے تھے ، آپ اس کو محفوظ رکھنے کی تاکید بھی فرمایا کرتے تھے۔آپ کے اس قسم کے احکام بھی ان اسباب میں سے ہیں جو احادیث نبویہ کی حفاظت کا موجب ہوئے ہیں۔كُنتُ أترجم : یہ واقعہ کتاب الایمان حدیث ۵۳ میں گذر چکا ہے۔وہاں علی بن جعد روایت کرنے والے ہیں؛ یہاں محمد بن بشار۔وہاں یہ الفاظ ہیں كُنتُ أقْعُدُ۔۔۔یہاں كُنتُ أترجم۔۔۔- يلفظی اختلاف بالکل جزوى ہے۔شراب کے برتنوں سے منع کرنے کی حکمت اپنے موقع محل پر بیان کی جائے گی۔باب ٢٦ : { اَلرّحْلَةُ فِي الْمَسْأَلَةِ النَّازِلَةِ } پیش آمدہ مسئلہ کے متعلق سفر کرنا ۸۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۸۸: ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا: أَبُو الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: عمر بن سعید أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ بن ابی حسین نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ عبداللہ بن قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَن إِلى مُلیکہ نے حضرت عقبہ بن حارث سے روایت عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی تو ان کے پاس ایک عورت إِهَابِ بْنِ عَزِيزِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي آلَی اور اس نے کہا کہ میں نے عقبہ کو دودھ پلایا تھا قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ اور اس کو بھی (جس سے ) اس نے شادی کی ہے۔{ بِهَا } فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ حضرت عقبہ نے اسے کہا: میں نہیں جانتا کہ تو نے أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي فَرَكِبَ إِلَى مجھے دودھ پلایا تھا اور نہ تو نے مجھے کبھی بتلایا۔اس لئے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ میں آئے بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اور آپ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اب یہ کیوں کر ہو؛ جبکہ یہ بات کہی گئی ہے۔اس پر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ وَقَدْ قِيْلَ فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ۔حضرت عقبہ اس سے الگ ہو گئے اور اس عورت نے دوسرے سے شادی کر لی۔اطرافه ۲۰۰۲، ٢٦٤۰، ٢٦٥٩، ٢٦٦٠، ٥١٠٤ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جز اول صفحہ ۱۶۷) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔