صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 162 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 162

صحيح البخاری جلد ا ۱۶۲ ٣- كتاب العلم هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ وَلَا نَسْتَطِيْعُ دور فاصلے سے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِأَمْرِ درمیان یہ مضر کافروں کا قبیلہ روک ہے اور ہم صرف نُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَّرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ حرمت والے مہینے میں ہی آپ کے پاس آ سکتے ہیں۔اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں جو ہم پچھلوں کو فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعِ بھی بتلائیں اور ہم بھی اس پر عمل کر کے جنت میں أَمَرَهُمْ بِالْإِيْمَانِ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ داخل ہوں۔اس پر آپ نے انہیں چار باتیں کرنے کا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيْمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا اللہ عزوجل پر قَالُوْا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ ایمان لانے کا ان کو حکم دیا۔فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: اقرار وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ کرنا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حمد اے رَمَضَانَ وَتُعْطُوْا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ اللہ کا رسول ہے اور نمازسنوار کر پڑھنا اور زکوۃ دینا اور وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَم رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال وَالْمُزَقَّتِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ سے پانچواں حصہ دیا کرو اور انہیں کڑوے کدو کے تو نے اور روغن شدہ گھڑے اور لاکھی برتن سے منع کیا۔شعبہ کہتے تھے کہ ابو جمرہ نے کبھی تو نقیر کہا یعنی کھجور کا گھرا ہوا برتن اور کبھی فقیر یعنی رال (یعنی درخت کی گوند) کا روغنی برتن۔آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یا درکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں ؛ ان کو بھی بتلاؤ۔النَّقِيْرِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ قَالَ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوْهُ مَنْ وَّرَاءَكُمْ۔اطرافه: ۵۳، ۵۲۳، ۱۳۹۸، ۳۰۹۵، ۳۵۱۰، ٤٣٦٨، ٤٢٦٩، ٦١٧٦، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦۔تشریح : تَحْرِيضُ النَّبِيِّ ﷺ عَلَى أَنْ يَحْفَظُوا۔۔وَيُخْبِرُوا۔۔۔۔انیسواں ادب علم کے متعلق یہ سکھلایا گیا ہے کہ صرف علم سیکھناہی کافی نہیں بلکہ علم کومحفوظ رکھنا اور دوسروں کو سکھانا اور اس کی ترغیب و تحریص دینا دلانا بھی ایک ضروری امر ہے۔حضرت مالک بن حویرث اپنی قوم کے چھ آدمیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کے پاس اسلامی احکام سیکھنے کے لئے ٹھہرے اور پھر جب لوٹنے لگے تو آپ نے ان کو فرمایا: ارجِعُوا إِلَى أَهْلِيْكُمْ فَعَلِمُوهُمْ۔حديث مشاراليه