صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 155 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 155

صحيح البخاري - جلد ) ۱۵۵ ٣- كتاب العلم يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ سے یہ ہے کہ علم اُٹھا لیا جائے گا اور جہالت مستحکم ہو جائے گی اور شراب پی جائے گی اور زنا کثرت سے ہوگا۔ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا۔ اطرافه: ۸۱، ٥٢٣١، ٥٥٧٧، ٦٨٠٨۔ ۸۱: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: یچی ( بن سعید ) يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَّا يُحَدِّثُكُمْ ہے، قتادہ نے حضرت انس سے روایت کی ۔ انہوں أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی نے کہا: میں تم کو ایک ایسی حدیث بتلاتا ہوں کہ میرے بعد کوئی بھی تمہیں نہیں بتلائے گا۔ میں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مِنْ أَشْرَاطِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے السَّاعَةِ أَنْ يَقِلُّ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ تھے: اس گھڑی کی، کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم کم وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلُّ ہو جائے گا اور جہالت کا غلبہ ہوگا اور زنا کثرت سے الرِّجَالُ حَتَّى يَكُوْنَ لِخَمْسِيْنَ امْرَأَةً پھیل جائے گا اور عورتیں بہت ہوں گی اور مرد کم ہو الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ۔ اطرافه: ۸۱، ٥۲۳۱، ٥٥٧٧، ٦٨٠٨۔ جائیں گے۔ یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگران ہوگا۔ تشریح: ربیعہ بن ابی عبد الرحمن دینی میں فوت ہوئے بھی اپنے مدنی تابعی ۱۳۶ھ میں فوت ہوئے ۔ بوجہ اپنے اجتہاد کے ربیعہ الرائی“ ر علم کے ہوتے ہوئے کے لقب سے مشہور تھے۔ امام بخاری نے ان کا قول یہ بتا۔ ایہ بتانے کے لیے نقل کیا ہے کہ علم کے پھر اپنی اصلاح اصلاح نہ کرنا اور اپنے آپ کو ضائع کر دینا یہ بھی ایک معنی میں علم کا اُٹھ جاتا ہے۔ علم کا اُٹھ جانا ہے۔ دونوں صورتوں میں انسان نہ صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے بلکہ اپنے بدنمونہ سے دنیا میں بھی بدکاری کے پھیلنے کا موجب ہوتا ہے۔ جہالت کے معنی جہاں فقدان علم کے ہیں وہاں بد عملی کے بھی ہیں، جو علم کے نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ علم سے مراد یہ مادی علوم نہیں بلکہ وہ روحانی عرفان ہے جو انبیاء لاتے ہیں؛ جس سے بدیوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور روح القدس کی ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ یہ مادی علوم تو بدیوں کے بڑھانے کا موجب ہوئے ہیں، بوجہ اس کے کہ ان کے ساتھ روحانی معرفت نہیں ۔ اس حدیث نے باب کے مضمون کو واضح کر دیا ہے۔ کیونکہ کسی قوم کی تباہی کے اسباب میں سے فقدان علم کو بھی شمار کیا گیا ہے۔ دوسری حدیث میں فرمایا کہ اس گھڑی کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ عورتیں بہت ہو جائیں گی اور آدمی گھٹ جائیں گے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ مسلمان قرون مظلمہ میں تاریک یورپ و جاہل ایشیا کے معلم و رہنما تھے اور ایک زمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے جا بجا مطعون ہیں۔ عفت و طہارت جو ان کے لئے مایہ ناز بھی کھو بیٹھے ہیں۔ ان کی غیرت