صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 154 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 154

صحيح البخاري - جلد 1 اولد ٣- كتاب العلم تشريح : مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ : آنحضرت صلی الہ علیہ سل نے علم وہدایت کی مثال بارش سے دے کر سے دے کر اسے حیات روحانیہ اور اجتماعیہ کا اصل سبب قرار دیا ہے۔ دنیا کی رونق آسمانی کا اصل صلى الله بارش پر موقوف ہے خواہ بادلوں سے برسے یا و یا وحی کی تجلیات ربانیہ کے ذریعہ سے علم و عرفان کی شعاعوں میں جلوہ گر ہو۔ بارش اور علم دونوں زندگی کا باعث ہیں اور دونوں کی قبولیت اور تاثیر زمین کی نوعیت پر موقوف ہے۔ جیسا کہ آنحضرت نے اس امر کو مثال سے واضح فرمایا ہے ۔ دوسری مثال اس شخص کی ہے جو خود اپنی ذات میں علم سے مستفیض نہیں ہوتا مگر دوسرے اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے پہلا افضل ہے ۔ امام بخاری نے باب کے عنوان باندھنے میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کیا ہے کہ عالم کی فضیلت اس مثال سے عیاں ہے کہ وہ ایک معنی میں احیاء کرتا ہے اور یہی احیاء وہ چیز ہے جس کی نسبت سے سے انز انسان کی قدر و قیمت میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اور یہ یہ احیاء احیاء دنیا نے میں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے با حسن وجوہ اور کما حقہ ظہور میں آیا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُم (الانفال : (۲۵) { اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی آواز پر کرو، جب وہ تمہیں بلائے ۔ تا کہ وہ تمہیں زندہ کرے۔ اور فرماتا ہے: وَاللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاحْيَا بِهِ } الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ۔ (النحل : ۶۶) { اور اللہ نے آسمان سے پانی اُتارا تو اس سے زمین کے مر جانے کے بعد زندہ کر دیا۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا نشان ہے جو (بات) سنتے ہیں ۔ } یہ احیاء ایک ابدی نشان ہے سننے والوں کے لئے ۔ ایک مردہ قوم کو زندہ کر کے اور معلم بنا کر دنیا کی طرف بھیجا اور یہ حکم دیا: كُونُوا رَبَّانِيِّينَ حُلَمَاءَ فُقَهَاءَ عُلَمَاءَ ۔ (بخارى كتاب العلم ۔ باب ١٠: العلم قبل القول والعمل) اور ان کے دلوں میں محبت علم کی وہ روح پھونکی کہ بوڑھے جاہل بھی پڑھ کر عالم بلکہ معلم بن گئے ۔ اسحاق بن راھویہ کی روایت میں قبلَت کی جگہ قیلت ہے۔ یعنی روک لیا۔ لبیک کہا باب ۲۱ : رَفْعُ الْعِلْمِ وَظُهُورُ الْجَهْلِ علم کا اُٹھایا جانا اور جہالت کا عام طور پر پھیل جانا وَقَالَ رَبِيعَةُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ عِنْدَهُ ربیعہ نے کہا: کسی کے پاس کچھ علم ہو تو اُسے نہیں شَيْءٌ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يُضَيِّعَ نَفْسَهُ۔ چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ضائع کرے۔ ۸۰ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ ۸۰ : ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عبدالوارث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو تیاح سے، عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ابوتیاح نے حضرت انس سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس گھڑی کی علامتوں میں