صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 156 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 156

صحيح البخاري - جلد ا ۱۵۶ ٣- كتاب العلم جس سے سارا جہان لرزاں تھا ، آج ان سے مفقود ہو چکی ہے اور بدکاری جو خوف کے مارے ان کی دہلیزوں کے پاس پھٹکنے کی جرات بھی نہ کر سکتی تھی۔آج ان کے آنگنوں میں ہر قسم کے بے حیائی کے تماشے کر رہی ہے اور انہیں احساس تک نہیں۔شراب جس کی بو سے بیزار تھے آج ان کی گھٹی میں ہے۔ان کے گھر رانڈوں سے بھرے پڑے ہیں اور اس جنگ عظیم (اول) نے تو وہ تباہی ڈالی ہے کہ یہ سارے نظارے ہم نے اپنی آنکھوں سے ممالک اسلامیہ میں دیکھے ہیں۔اس جنگ کے بعد الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ کے عذاب کا نظارہ ایسے جلالی رنگ سے پورا ہوا ہے کہ سارا یورپ اب تک چیخ و پکار کر رہا ہے۔گویا مسلمانوں کی تباہی جو دجالی فتنہ کے ذریعہ سے مقدر تھی وہ ایک ایسی ہولناک صورت میں ظاہر ہوئی کہ تمام جہان اس میں مبتلا ہو گیا۔علم کے ساتھ عمل کرنے کے متعلق باب مذکور میں سولھواں ادب یہ سکھایا ہے کہ عمل نہ کرنے سے علم بھی ضائع ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ خود انسان بھی۔بَابِ ۲۲ : فَضْلُ الْعِلْمِ فضل العلم یعنی علم کا زائد اور بچا ہوا حصہ الله ۸۲: حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ ۸۲: ہم سے سعید بن غفیر نے بیان کیا، کہا: مجھ سے حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ لیث نے بیان کیا۔لیث نے کہا: بعقیل نے مجھے بتلایا۔ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بن انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمزہ بن عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ عبد اللہ بن عمر سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔آپ فرماتے تھے: أُتِيْتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثناء میں میرے پاس نَائِمٌ دودھ کا ایک گلاس لایا گیا اور میں نے اتنا پیا کہ اب بھی میں طراوت کو اپنے ناخنوں سے پھوٹتے ہوئے دیکھتا ہوں۔پھر میں نے اپنا بچا ہوا ( دودھ ) عمر بن إِنِّي لَأَرَى الْرِيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوْا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ خطاب کو دیا۔صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ الْعِلْمَ۔اطرافه: ٣٦٨١، ٦ تشریح: آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ؟ فرمایا: علم۔۷۰۳۲ ،۷۰۲۷ ،۷۰۰۷ فَضْلُ الْعِلْمِ : فَضْلُ العِلم سے اس جگہ مراد علم کی فضیلت نہیں بلکہ علم کا بچا ہوا حصہ فضیلت علم کے متعلق الگ باب باندھا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا اور اس کی تعبیر سے، نیز ان واقعات