صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 150 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 150

صحيح البخاری جلد ) ۱۵۰ ٣- كتاب العلم تشريح : مَتَى يَصِحُ سَمَاعُ الصَّغِيرِ : امام بخاری کواس باب کے باندھنے کی ضرورت اس اختلاف کی وجہ سے پیش آئی ہے جو بعض علماء کے درمیان چھوٹے بچوں کے سننے اور روایت کرنے کے بارے میں ہوا ہے۔ یعنی وہ قابل اعتماد ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۲۵) امام بخاری یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ تحصیل علم کے لئے بلوغت شرط نہیں۔ بلکہ سمجھ شرط ہے اور حافظہ و ادراک کی ضرورت ہے جو پانچ سال کے بچے میں بھی نمایاں طور پر اپنا کام کر سکتے ہیں۔ علماء خواہ مخواہ ان بحثوں میں پڑ گئے اور مجلس میں بچوں کی موجودگی کو بھی مگر وہ سمجھنے لگے۔ حالانکہ یہ امر طبیعتوں کے اختلاف پر منحصر ہے۔ بعض پانچ سال میں ہی سیکھنے اور سمجھنے کی استعداد ظاہر کر دیتے ہیں۔ اگر حضرت ابن عباس وغیرہ اپنے بچپن کے مشاہدات بیان کرتے ہیں تو ان کی روایتیں مخدوش نہیں سمجھی جاسکتیں۔ عَقَلْتُ مَجَّةً: یعنی مجھے ہوش ہے اس کلی کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ پر ڈالی تھی۔ وَجْهَهُ جس میں ناک، منہ، آنکھیں اور رخسار سب شامل ہیں ۔ مج کے معنے دور سے کلی ڈالنا ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۲۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار ومحبت سے بچے کے ساتھ مزاح کیا ہے۔ باب ۱۹ : الْخُرُوْجُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ علم کی تلاش میں نکلنا وَرَحَلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ اور حضرت جابر بن عبداللہ ایک حدیث کی خاطر مہینہ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَيْسٍ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ ۔ بھر کا سفر کر کے حضرت عبداللہ بن اُنیس کے پاس گئے ۷۸: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ خَالِدُ بْنُ ۷۸ : ہم سے ابوالقاسم خالد بن خلی نے جو حمص کے خَلِي { قَاضِي حِمْصَ * } قَالَ حَدَّثَنَا قاضی تھے * بیان کیا، کہا: محمد بن حرب نے ہم سے مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: اوزاعی کہتے تھے: زہری نے أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ ہمیں بتلایا ۔ انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بن مسعود سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس سے أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ روایت کی کہ انہوں نے اور حُر بن قیس بن حصن حِصْنِ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى فزاری نے آپس میں حضرت موسیٰ کے ساتھی کے الفاظ قَاضِي حمص فتح البارى مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۲۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔