صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 133 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 133

صحيح البخاری جلد ا الله باب ۹ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ رُبَّ مُبَلَّغ أَوْعَى مِنْ سَامِعِ ٣- كتاب العلم ٹھر نبی ﷺ کا یہ فرمانا کہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جائے وہ سننے والے سے زیادہ فہیم ہوتا ہے ٦٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۷ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ہم سے بشر نے بِشْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ابن عون نے ہمیں بتلایا۔ سِيْرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ انہوں نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے باپ عَنْ أَبِيْهِ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے روایت کی ۔ ان کے باپ نے نبی ﷺ کا ذکر کیا وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَى بَعِيْرِهِ وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ کہ آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اس کی بِخِطَامِهِ أَوْ بِزِمَامِهِ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا کمیل یا (کہا) اس کی ڈور پکڑ لی ۔ آپ نے پوچھا: یہ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ سِوَى کون سا سا دن ہے؟ ہم چپ رہے۔ کیونکہ ہم نے اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رھیں گے۔ آپ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہا: أَنَّهُ سَيُسَمِيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بے شک ۔ آپ نے پوچھا: کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ اور نام رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ حج کا مہینہ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: بے شک ۔ آپ نے فرمایا کہ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي یاد رکھو، تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا لِيُبَلِّغ عزتیں تمہارے درمیان ایسی ہی معزز ہیں جیسے کہ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں ۔ چاہیے کہ جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو پہنچادے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ حاضر ایسے شخص کو پہنچائے جو اس يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ۔ سے زیاہ یادرکھنے والا، زیادہ سمجھنے والا ہو۔ اطرافه: ۱۰۵، ۱۷۱ ، ۳۱۹۷، ٤٤٠۷، ٤٦٦٢ ، ٥٥٥٠، ٧٠٧٨، ٧٤٤٧ تشريح : رُبَّ مُبَلَّغ أَوْعَى مِنْ سَامِع : اس باب کابھی تعلق اس مضمون کے ساتھ ہے۔ یعنی افراد بشریہ میں علم کے قبول کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص جو کسی متکلم کا مخاطب ہوتا ہے؟