صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 129 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 129

صحيح البخاری جلد ا ۱۲۹ ٣- كتاب العلم كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ فَحَسِبْتُ أَنَّ پہنچا دیا ۔ جب اس نے خط پڑھا تو اس نے اس کو ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ پھاڑ کر پرزہ پرزہ کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ ابن مسیب اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَرَّ قُوْا کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی کہ وہ بھی بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے كُلَّ مُمَزَّقٍ ۔ اطرافه: ٢۹۳۹، ٤٤٢٤، ٧٢٦٤۔ :٦٥ جائیں۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۱۵ : ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن (مروزی) نے أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنَا بیان کیا ، (کہا: ) عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ کہا: شعبہ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے قَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انس بن مالک سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: كِتَابًا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط لکھا۔ یا آپ نے لَا يَقْرَؤُونَ كِتَابًا إِلَّا مَحْتُوْمًا فَاتَّخَذَ ارادہ کیا کہ تھیں تو آپ سے کہا گیا کہ گیا کہ وہ مہر شده خط کے سوا کوئی خط نہیں پڑھتے ۔ تب آپ نے چاندی کی خَاتَمًا مِّنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ایک انگوٹھی بنوائی ۔ اس پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔ اللَّهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سپیدی اب بھی فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَنْ قَالَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ دیکھ رہا ہوں۔ ہا ہوں۔ اس پر میں نے قتادہ سے دریافت کیا : رَّسُولُ اللَّهِ قَالَ أَنَسٌ۔ ۔ یہ کس نے کہا کہ اس کا نقش - محمد رسول الله - ( ع ) تھا۔ جواب دیا: حضرت انس نے۔ اطرافه: ۲۹۳۸، ٥٨٧٠، ٥٨٧٦، ٥٨٧٤، ٥٨٧٥، ٥٨٧٧، ٧١٦٢۔ تشریح: مَا يُذْكَرُ فِي الْمُنَاوَلَة : جمہور نے رَوَايت بِالْمُنَا وَ لَہ کو جائز قرار دیا ہے اور جنہوں نے معارضه کونا جائز قرار دیا، انہوں نے اس کو بھی نا جائز قرار دیا ہے۔ مناولہ اور مکاتبہ کے درمیان جس کا باب میں ذکر ہے، یہ فرق ہے کہ مناوله میں استاد اپنے شاگرد کو اپنی تحریر دے کر کہے کہ یہ میری تصنیف ہے اور تمہیں مجھ سے روایت کرنے کی اجازت ہے اور مکاتبہ یہ ہے کہ اپنی تحریر کسی کو بھیجے اور اس کو اجازت دے۔ اس کے متعلق امام بخاری نے مذکورہ بالا مشہور واقعات سے استدلال کیا ہے۔ پہلا حوالہ حضرت عثمان کا دیا ہے، جنہوں نے قرآن مجید کے نسخے لکھوا کر مختلف شہروں میں بھیجے اور لوگوں کو اُن کے مطابق پڑھنے پڑھانے کا حکم دیا۔ دوسرا حوالہ حضرت عبداللہ