صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 130 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 130

صحيح البخاري - جلد ا ۱۳۰ ٣- كتاب العلم ابن عمر کا دیا ہے۔اس واقعہ کا ذکر ابو قاسم بن مندہ کی کتاب الوصیت میں ہے کہ ابو عبد الرحمن جنگلی ایک کتاب حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کے پاس لائے ، جس میں کچھ حدیثیں تھیں تو انہوں نے ابو عبد الرحمن کو ایک کتاب دی اور کہا: اس سے مقابلہ کر لو، جو اس کے موافق ہو اُس کو لے لو اور جو مخالف ہو اس کو چھوڑ دو۔یہ مناولہ کی ایک واضح مثال ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۲۰۴) يحي بن سعید انصاری جب عراق جانے لگے تو انہوں نے مالک بن انس سے کہا کہ ابن شہاب زہری کی روایت میں سے سوحدیثیں مجھے لکھ دیں تا میں آپ سے ان کو نقل کیا کروں۔امام مالک کہتے تھے میں نے ان کو لکھ کر بھیج دیں۔یہ مثال مکاتبت کی ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۲۰۴ - عمدۃ القاری جزء دوم صفحه ۲۵ ) وَاحْتَجَّ بَعْضُ اَهْلِ الْحِجَازِ فِى الْمُنَاوَلَةِ: اہل حجاز میں سے جس شخص نے حدیث مذکور سے استدلال کیا ہے وہ حمیدی ہیں، جو امام بخاری کے شیخ یعنی استاد تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن جحش اسدی کو جو حضرت زینب ام المومنین کے بھائی تھے، مشار الیہ خط دیا تھا۔آپ نے ۲ھ میں ایک دستہ فوج جو ۱۲ آدمیوں پر مشتمل تھا بھیجا اور آپ نے امیر جیش کو دودن سفر کرنے کے بعد خط پڑھنے کا حکم دیا۔اس خط کا مضمون یہ تھا۔وو " جب تم میرے اس خط کو دیکھو تو آگے بڑھو اور جا کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ مقام پر ڈیرہ ڈال دواور وہاں قریش کا انتظار کرو اور ان کے حالات معلوم کرو۔“ علماء نے اس قسم کی مناولت کو بعض شرطوں سے مشروط کیا ہے۔مثلاً خط بمہر ہو۔لے جانے والا امین ہو۔جسے خط بھیجا گیا ہو وہ لکھنے والے کا خط پہنچانتا ہو۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰۵) بَعَثَ بِكِتَابِهِ رَجُلًا۔۔۔إلى کِسری امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لکھنے سے استدلال کیا ہے۔یہ خط صلح حدیبیہ کے بعد لکھے گئے۔آپ نے ایک خط مقوقس شاہ مصر کو بھی لکھا تھا جو ہمارے زمانہ میں مل گیا ہے اور اس کا عکس شائع کیا گیا ہے، جس سے اس حدیث کے الفاظ کی پورے طور پر تصدیق ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نقش کے متعلق بتلایا گیا تھا کہ اللہ ایک سطر، رسول ایک سطر محمد ” ایک سطر و پر نیچے تھا۔اس خط سے اس کی بھی تصدیق ہوگئی ہے۔ہر قل کا ذکر پہلے آچکا ہے۔(دیکھئے روایت نمبرے) عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ : یعنی بحرین کا سردار بحرین ، عمان اور بصرہ کے درمیان خلیج فارس میں ایک جزیرہ ہے۔اس کا سردار منذر بن سالوی تھا۔حضرت عبد اللہ بن حذیفہ کبھی یہ خط لے کر اس کے پاس گئے تھے۔کسری پرویز بن ہرمز بن نوشیروان کے نام خط آکے ھ کے درمیان بھیجا گیا تھا۔فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ: اس حدیث میں یہ جو الفاظ ہیں: فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قال یہ ابن شہاب کا خیال ہے جو اس حدیث کے راوی ہیں۔یعنی خط لکھنے کا واقعہ موصولاً بیان کیا گیا ہے اور اُن کے خلاف دعا کرنے کی جو روایت ہے وہ مرسل ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰۵) واقعات اس دعا کے حیرت انگیز نتائج کی تصدیق کرتے ہیں۔کسری پرویز کی سلطنت حضرت عمر کے زمانہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی۔۔