صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 123 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 123

صحيح البخاری جلد ا العالم ٣- كتاب العلم حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ حَدَّثَنَا ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہ محمد بن مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ عَنْ حسن واسطی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عوف سے، عَوْفِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ لَا بَأْسَ عوف نے حسن (بصری) سے روایت کی کہ انہوں بِالْقِرَاءَةِ عَلَى الْعَالِمِ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ے کہا کہ عالم کو نا کر پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ ابْنُ يُوسُفَ الْفِرَبْرِيُّ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ اور حمد بن یوسف فربری نے ہمیں بتلایا۔ (انہوں نے کہا: ) محمد بن اسماعیل بخاری نے ہم سے بیان کیا۔ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا انہوں نے کہا: عبید اللہ بن موسیٰ نے سفیان ثوری) عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ إِذَا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا: اگر محدث قُرِئَ عَلَى الْمُحَدِّثِ فَلَا بَأْسَ أَنْ تَقُوْلَ سے اس کو سنا کر پڑھا جائے تو کوئی قباحت نہیں کہ یہ حَدَّثَنِي قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ يَقُولُ ہے کہ مجھ سے ( فلاں محدث نے ) بیان کیا۔ سفیان عَنْ مَالِكٍ وَسُفْيَانَ الْقِرَاءَةُ عَلَی نے کہا: اور میں نے ابو عاصم سے سنا۔ وہ مالک اور الْعَالِمِ وَقِرَاءَتُهُ سَوَاءٌ۔ سفیان سے نقل کرتے تھے کہ عالم سے اس کو سنا کر پڑھنا اور اس عالم کا خود پڑھنا دونوں یکساں ہیں۔ ٦٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۳ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ هُوَ لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، الْمَقْبُرِيُّ عَنْ شَرِيْكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سعید نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت کی أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُوْلُ کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَّعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہتے تھے کہ ایک بار ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ اللہ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہا۔ لے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار اندر آ گیا اور اس نے مسجد میں اونٹ بٹھا دیا۔ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ پھر اس نے اس کا گھٹا باندھا۔ اس کے بعد اس نے عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُّحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله ان سے پوچھا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ اور نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِى بَيْنَ ﷺ ان کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے ۔ ہم نے