صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 123
صحيح البخاری جلد ا ۱۲۳ ٣- كتاب العلم حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ حَدَّثَنَا ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہ محمد بن مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ عَنْ حسن واسطی نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عوف سے، عَوْفٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ لَا بَأْسَ عوف نے حسن (بصری) سے روایت کی کہ انہوں بِالْقِرَاءَةِ عَلَى الْعَالِم وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ نے کہا کہ عالم کو سنا کر پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ابْنُ يُوْسُفَ الْفِرَبْرِيُّ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ اور محمد بن یوسف فربری نے ہمیں بتلایا۔(انہوں نے ابْنُ إِسْمَاعِيْلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا کہا: ) محمد بن اسماعیل بخاری نے ہم سے بیان کیا۔عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوْسَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ إِذَا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا: اگر محدث قُرِئَ عَلَى الْمُحَدِّثِ فَلَا بَأْسَ أَنْ تَقُوْلَ سے اس کو سنا کر پڑھا جائے تو کوئی قباحت نہیں کہ یہ حَدَّثَنِي قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ يَقُوْلُ ہے کہ مجھ سے ( فلاں محدث نے ) بیان کیا۔سفیان عَنْ مَّالِكِ وَسُفْيَانَ الْقِرَاءَةُ عَلَی نے کہا: اور میں نے ابو عاصم سے سنا۔وہ مالک اور سفیان سے نقل کرتے تھے کہ عالم سے اس کو سنا کر الْعَالِمِ وَقِرَاءَتُهُ سَوَاءٌ۔انہوں نے کہا: عبید اللہ بن موسیٰ نے سفیان ثوری) پڑھنا اور اس عالم کا خود پڑھنا دونوں یکساں ہیں۔٦٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۳ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ هُوَ لیٹ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے سعید مقبری سے، الْمَقْبُرِيُّ عَنْ شَرِيْكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سعید نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت کی أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَقُولُ کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔وہ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَّعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہتے تھے کہ ایک بار ہم مسجد میں رسول اللہ ہے کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار اندر آ گیا اور اس نے مسجد میں اونٹ بٹھا دیا۔عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ پھر اس نے اس کا گھٹنا باندھا۔اس کے بعد اس نے عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُّحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ ان سے پوچھا: تم میں محمد(ﷺ) کون ہیں؟ اور نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِى بَيْنَ ﷺ ان کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ہم نے