صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 121
صحيح البخاری جلد ا ۱۲۱ ٣- كتاب العلم بابه طَرْحُ الْإِمَامِ الْمَسْأَلَةَ عَلَى أَصْحَابِهِ لِيَخْتَبِرَ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ امام کا اپنے ساتھیوں سے سوال کرنا تا کہ ان کے علم کا امتحان لے ٦٢ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا :۶۲ ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہ سلیمان سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ( بن بلال) نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا ) کہ عبداللہ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن دینار نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حضرت ابن عمر وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا ، حضرت ابن عمر نے نبی ﷺ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک ایسا درخت يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلمان کی مثال حَدِثُوْنِي مَا هِيَ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي ہے۔مجھے بتلاؤ کہ وہ کونسا ہے؟ حضرت ابن عمر کہتے شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللهِ فَوَقَعَ فِي تھے اس پر لوگ بیابانوں کے درختوں میں جا پڑے۔نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ثُمَّ قَالُوْا حَدِّثْنَا مَا حضرت عبداللہ کہتے تھے: میرے جی میں آیا کہ وہ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ۔کھجور ہے۔(پس میں شرمایا ) پھر لوگوں نے کہا: یا : صلى الله رسول اللہ آپ ہمیں بتلائیں وہ کیا درخت ہے؟ فرمایا: وہ کھجور ہے۔اطرافة: ٦١ ،۷۲، ۱۳۱ ، ۲۲۰۹، ٤٦٩٨، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨ ٦١٢٢، ٦١٤٤- تشريح طَرْحُ الْإِمَامِ الْمَسْتَلَةَ عَلى أصْحَابه: یہ حدیث جوابی گزر چکی ہے اس کامعا اعادہ کرنے سے امام بخاری کیہ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی حدیث کا تکرار ایک نئے فائدہ کی غرض سے کریں گے۔نیز ا سے عمو مانٹی سند کے ساتھ دہرائیں گے ، تا اس کا پایہ صحت معلوم ہو۔علاوہ ازیں وہ باب کے عنوان میں ایک معمولی سا تصرف کر کے دقیق در دقیق مسائل کا استنباط کرتے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۹۵) جیسا کہ اس کی مثالیں کثرت سے آئیں گی۔یہاں علم کے متعلق ساتواں ادب بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ عالم وتعلیم دیتے وقت یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ سیکھنے والوں کی طبعی استعداد و جستجو کو ابھارے اور مشاہدات کی طرف توجہ دلا کر قیاسات کے لئے اُن کے ذہن میں تحریک پیدا کرے۔عربی زبان میں باطنی امر کو جو پوشیدہ ہوتا ہے ظاہر کرنے کا نام اختبار ہے اور فن تعلیم میں یہ طریقہ سب سے اعلیٰ مانا گیا ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو دہرا کر اور اس سے علم کے متعلق نہایت باریک اور مفید استنباط کر کے جو الگ باب قائم کیا ہے وہ صرف اس غرض کو ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ ان کا یہ انداز اس کتاب کے پڑھنے والوں