صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 72
صحيح البخاری جلد ا ۷۲ ٢ - كتاب الإيمان بَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ : سے مراد یہ ہے بغیر اپنی ذات پات اور قومیت کی تمیز کے سب کے لئے سلامتی کا موجب اور سلامتی کا خواہاں ہو۔یہ ان مکارم اخلاق کی ایک مثال ہے، جس کی تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو دی۔الْإِنْفَاقُ مِنَ الْاِقْتار : یعنی تنگی کی حالت میں خرچ کرنا۔آپ نے ان الفاظ میں سلامتی کا مفہوم پورے طور پر واضح فرما دیا ہے۔بَدلُ السَّلام کا ایک مفہوم سلبی اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے۔یعنی انسان اپاہج کی طرح بیٹھ جائے کسی کو ضرر نہ دے۔لیکن آپ کی یہ مراد نہیں بلکہ یہ ہے کہ تنگدست ہو کر بھوکوں کو دے اور دکھیاروں کے دکھ دور کر کے انہیں سلامتی بخشے۔یادر ہے کہ یہ اسلام کا ایک عام مفہوم ہے اور یہ مکارم اخلاق میں اسلامی تعلیم کا پہلا زینہ ہے۔کمال نہیں۔امام بخاری نے باب کے عنوان میں بَذْلُ السَّلامِ لِلْعَالَم کہہ کر تَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تغرق کی مزید تشریح کر دی ہے اور حضرت عمار بن یاسر کے جو الفاظ نقل کئے گئے ہیں، یہ بھی ایک مستند مرفوع حدیث نبوی کے الفاظ ہیں؛ جو حضرت عمار بن یاسر صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کئے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۱۳) اس باب میں امام بخاری نے اسلام کا ایک تیسرا مفہوم بیان کیا ہے۔در مطلق سلامتی کا موجب ہونا اپنے لئے اور غیر کے لئے “ بَاب ۲۱ : كُفْرَانُ الْعَشِيْرِ شوہر کی ناشکری وَكُفْرٌ دُونَ كَفْرٍ فِيْهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اور کفر بھی چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔اس بارے میں حضرت ابوسعید خدری نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ۔سے ایک روایت بیان کی ہے۔۲۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ :۲۹ عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے مَّالِكِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ عطاء بن بیمار سے، عطاء نے حضرت ابن عباس سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيْتُ النَّارَ فَإِذَا روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جہنم دکھایا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ قِيْلَ اکثر عورتیں ہیں۔کفر کرتی ہیں۔پوچھا گیا: کیا وہ اللہ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيْرَ کا کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکر گذاری کرتی