صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 73 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 73

صحيح البخاری جلد ا ۷۳ ٢ - كتاب الإيمان وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تو ان میں سے إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا کسی پر زمانہ بھر بھی احسان کرتا رہے اور پھر وہ تجھ سے حسان کرتا رہے اور پھر وہ مجھ سے قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ۔ کچھ ایسی ویسی بات دیکھے تو کہہ دے گی کہ میں نے تجھ سے کبھی بھی بھلائی نہیں دیکھی۔ اطرافه: ٤٣١ ، ٧٤٨ ، ۱۰۵۲ ، ۳۲۰۲ ، 5197۔ تشریح: كُفَرْدُونَ كُفر : جس طرح گذشتہ حوالہ جات میں امام موصوف نے اسلام کے متلف مفہوم بیان کئے اسی طرح اس باب میں بھی کفر کے مختلف مفہوم بیان کئے ہیں اور یہ بتلایا ہے کہ اس کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔ کفر کے معنی روایت نمبر ۲۱ کی تشریح میں ملاحظہ ہوں ۔ امام بخاری نے جس حدیث کو یہاں چنا ہے، اس میں کفر کے معنی اللہ تعالیٰ کے انکار کے علاوہ ناشکرگزاری بھی کئے گئے ہیں۔ كُفْرٌ دُونَ كُفر کہ کر یہ بتایا ہے کہ کفر جس نوعیت کا بھی ہو، اس کے مراتب ہوتے ہیں۔ كُفر باللہ اللہ تعالیٰ کا انکار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی بعض صفات کا انکار بھی ہو سکتا ہے اور اس کے احکام کی نافرمانی بھی ہو سکتی ہے۔ ہر ایک بد اعتقادی اور نافرمانی اپنے اندر کفر کا شائبہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ ہر اچھے اعتقاد اور ہر اطاعت کے اندر ایمان کی جھلک ہوتی ہے اور کفر کے چھوٹا بڑا ہونے کے یہ معنے نہیں کہ وہ سزا کا مستحق نہیں۔ یہی ناشکر گذاری ایک ایسا کفر ہے کہ جس کی وجہ سے عورتیں جہنم میں ہیں۔ رَأَيْتُ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک کشف یا خواب کا نظارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا اور روزمرہ کے واقعات و مشاہدات اس کی صحیح تعبیر ہیں۔ جس قدر عورتیں نا شکر گزاری کی وجہ سے بالعموم حسرتوں اور دکھوں کی آگ میں ہیں اس قدر مرد نہیں۔ جو شخص قانع نہیں اور وہ جس کی نظر ان نعمتوں کی طرف نہیں جو اس کو حاصل ہیں۔ بلکہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر للچاتا اور واویلا کرتا ہے، وہ یقیناً ہمیشہ اپنے دل میں جہنم کی آگ رکھتا ہے۔ ہاں وہ جو موجودہ نعمتوں پر شکر گزار اور قناعت کا سانس لیتے ہوئے مزید فضل کا امیدوار ہے وہ راحت میں ہے۔ عورت کا اصل چین خاوند کی شکر گزاری اور وفاداری میں ہے۔ اس کے بغیر اس کا گھر بار اس کے لئے ایک جہنم ہو جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنس لطیف کے اس نقص کی اصلاح فرمائی ہے جو عموماً ان کی ساری لطافتوں کو بدمزگی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض کفر ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ جس میں ایک مسلمان بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔ باب مذکور میں الفاظ فِيْهِ عَنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ اللہ جو ہیں ان سے امام بخاری علیہ الرحمۃ کی غرض اس حدیث کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کتاب الحيض باب ترک حائض الصوم میں مروی ہے۔ كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ بھی حدیث نبوی کے ہی الفاظ ہیں۔ جو امام احمد بن حنبل نے کتاب الایمان میں عطاء بن رباح وغیرہ سے نقل کی ہے۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۱۴)