صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 68 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 68

صحيح البخاری جلد ا ۶۸ ٢ - كتاب الإيمان کے سارے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور اس کی مشیت کے ماتحت ہونے چاہئیں جو رسولوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (الصافات: (۲۲) : یعنی اس کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں۔ یہاں عمل کو نہ کہ محض ایمان کو ذریعہ نجات اور کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ جِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ : سے ہر وہ کوشش مراد ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں کی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے افضل کام کے متعلق سوال کرنے والے کو کبھی یہ جواب دیا کہ بروقت نماز پڑھنا افضل ہے اور اس کے بعد والدین سے حسن سلوک کرنا اور پھر اس کے بعد جہاد اور کبھی یہ جواب دیا کہ اسلام میں بہتر عمل کھانا کھلانا ہے اور ہر ایک کے لئے سلامتی کی دعا کرنا ہے اور کبھی فرمایا: لوگوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے سلامتی میں رکھنا۔ ابوبکر محمد بن علی شاشی نے اس اختلاف کی یہ توجیہہ کی ہے کہ یہ افضلیت نسبتی امر ہے اور خاص حالات و خاص لوگوں کو ملحوظ رکھ کر آپ نے موقع محل کے مطابق یہ جواب دئے ہیں ۔ جس میں عقوق والدین دیکھا اس کو اُن سے حسن سلوک کا حکم دیا۔ جن اعا حسن سلوک کا حکم دیا۔ جن اعمال کا تعلق بنی نوع انسان کی بہبودی اور اصلاح سے ہے۔ ا ۔ ان میں سے جہاد جہاد کو افضل قرار رار دیا اور جن کا تعلق اپنے نفس سے ہے۔ ان میں حج کو افضل قرار دیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۱۸۹) وعلى هذا القياس - بَاب ۱۹ : إِذَا لَمْ يَكُنِ الْإِسْلَامُ عَلَى الْحَقِيقَةِ جب اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو وَكَانَ عَلَى الْإِسْتِسْلَامِ أَوِ الْخَوْفِ اور صرف ظاہری تابعداری کے معنوں میں ہو یا قتل کے مِنَ الْقَتْلِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى قَالَتِ الْأَعْرَابُ ڈر سے ہو تو وہ بھی ایک معنی سے اسلام ہی ہے۔ کیونکہ آمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا الله تعالی فرماتا ہے: (قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنَّا) اہل أَسْلَمْنَا (الحجرات: ١٥) فَإِذَا كَانَ بادیہ نے کہا: ہم نے مان لیا۔ (انہیں) کہو تم ایمان نہیں عَلَى الْحَقِيقَةِ فَهُوَ عَلَى قَوْلِهِ جَلَّ لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم ظاہر میں ظاہر میں مسلمان ہو گئے ہیں اور جب اسلام اپنی حقیقت پر ہو تو اللہ جل شانہ کے قول ( ان ذِكْرُهُ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ۔ (آل عمران: ۲۰) الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسلام ) کے مطابق ہوگا۔ یعنی دین تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔ ۲۷ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۷: ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ سَعْدٍ انہوں نے کہا کہ عامر بن سعد بن ابی وقاص نے