صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 66
صحيح البخاري - جلد ا ۶۶ ٢ - كتاب الإيمان باب ۱۸ : مَنْ قَالَ إِنَّ الْإِيْمَانَ هُوَ الْعَمَلُ جس نے کہا کہ ایمان اصل میں عمل ہی ہے لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَتِلْكَ الْجَنَّةُ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي الَّتِي أُوْرِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اُوْرِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ) یہ وہ جنت ہے (الزخرف : ۷۳) وَقَالَ عِدَّةٌ مِّنْ أَهْلِ جس کے تم بوجہ عمل کرنے کے وارث کئے گئے ہو اور الْعِلْمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَوَرَبِّكَ کئی علماء نے آیت (فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ) کے متعلق کہا ہے کہ اس سے (الحجر: ٩٣) عَنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا الله مراد لا إِلهَ إِلَّا الله کا اقرار ہے اور فرمایا: (لِمِثْلِ هَذَا وَقَالَ لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ۔ فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ) اس بات کی خاطر چاہیے کہ عمل (الصافات: ٦٢) کرنے والے عمل کریں۔ ٢٦: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۲۶: ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا بیان کیا ۔ ان دونوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے ہم إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابن شہاب نے ہمیں رحم صلى الله شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ بتلایا ۔ ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے سعید نے أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون ساعمل افضل ہے؟ آپؐ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ فَقَالَ إِيْمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ قِيْلَ ثُمَّ مَاذَا فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کونسا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ قِيْلَ ثُمَّ مَاذَا جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کون ساعمل ؟ قَالَ حَجٌ مَّبْرُورٌ۔ طرفه: ١٥١٩۔ فرمایا: وہ حج ہے جس کے ساتھ نیکیاں ہوں ۔ تشريح : إِنَّ الْإِيْمَانَ هُوَ الْعَمَلُ : خلف استدلالات کے بعد امام بخاری رح لالہ نے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نے عمل کی اہمیت بتلانے کے لئے ایک نیا عنوان قائم کیا ہے۔ عمل پر اس قدر زور دینے کی اصل وجہ یہی ہے کہ مرجئہ کا فتنہ ان دنوں