صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 57 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 57

صحيح البخاري - جلد ا ۵۷ ٢ - كتاب الإيمان مَّالِكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مالک سے، مالک نے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيْهِ عبد الرحمن بن ابی صعصعہ سے، انہوں نے اپنے باپ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي أَنَّهُ قَالَ قَالَ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری سے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِم وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال غَنَمٌ يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ بکریاں ہوں گی۔وہ ان کو اپنے ساتھ لئے جنگلوں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش کی جگہوں میں اپنے الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِيْنِهِ مِنَ الْفِتَنِ۔اطرافه -٣٣٠، ٦٤٩٥،٣٦٠٠ ، ٧٠٨٨ دین کو فتنوں سے بچاتے ہوئے بھاگتا پھرے گا۔تشریح : يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ : اس حدیث کا تعلق اصل بحث سے بالکل واضح ہے۔مسلمان کا فرض صرف یہی نہیں کہ وہ لوگوں کو تکلیف نہ دے۔بلکہ اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ دوسروں کے شر سے اپنے آپ کو بھی محفوظ رکھے۔جیسا کہ اسلام اور مسلم کے الفاظ کا مفہوم ہے۔دین کے معنی بھی فرمانبرداری کے ہیں۔” الدین سے مراد یہاں اسلام ہی ہے۔اس لئے خَیرُ مَالِ الْمُسْلِم فرمایا۔جیسا کہ کسی کو ایذا نہ دینا اسلام سے قرار دیا گیا ہے، ایسا ہی اپنے آپ کو شر و فساد سے بچانا بھی اسلام کا جزء قرار دیا گیا ہے۔فتنوں میں پڑ کر نہ انسان کا دین محفوظ رہتا ہے اور نہ وہ خود سلامتی میں رہتا ہے۔پہاڑوں کی چوٹیوں کا ذکر کر کے اس حرص کی طرف اشارہ کیا ہے جو ایک مسلمان کو اپنی سلامتی اعتقاد و اعمال کے متعلق ہونی چاہیے۔بَاب ۱۳ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں تم سے اللہ کو بہتر جانتا ہوں وَأَنَّ الْمَعْرِفَةَ فِعْلُ الْقَلْبِ لِقَوْلِ اللَّهِ اور یہ کہ عرفان دل کا فعل ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا تَعَالَى وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ ہے: وَلَكِنْ يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ) قُلُوْبُكُمْ۔(البقرة : ٢٢٦) بلکہ وہ تمہیں بوجہ ان ( نیتوں ) کے پکڑے گا جو تمہارے دلوں نے پختہ کی ہیں۔