صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 58 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 58

صحيح البخاری جلد ا ۵۸ ٢ - كتاب الإيمان ٢٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامِ قَالَ :۲۰ ہم سے محمد بن سلام (بیکندی) نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عبدہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ بِمَا يُطِيْقُوْنَ قَالُوْا إِنَّا لَسْنَا وسلم جب کبھی صحابہ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو آپ صرف انہیں ایسے کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ کرسکتے صحابہ کہتے : یارسول اللہ! ہم تو آپ جیسے نہیں لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی پہلی اور پچھلی کو تا ہیاں فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي معاف کر دی ہیں۔اس بات پر آپ کو اتنا رنج ہوتا کہ وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُوْلُ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ آپ کے چہرہ سے ظاہر ہوتا۔پھر آپ فرماتے کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے والا بِاللَّهِ أَنَا۔تشریح: ط اور سب سے زیادہ عارف باللہ میں ہوں۔لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ : یہ آیت قسموں کے متعلق ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کہ یونہی بے فائدہ قسمیں نہ کھایا کرو۔اس کے بعد فرمایا: لَا يُؤَاخِذْ كُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔(البقرة: ۲۲۶) یعنی اللہ تعالیٰ ان قسموں پر مواخذہ نہیں کرتا جن کے ساتھ دل کا عزم نہیں اور جو انسان عادتا اٹھاتا ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اسلام جس کا تعلق اعمال کے ساتھ ہے اور ایمان جس کا تعلق عرفان کے ساتھ ہے، یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔وہی اعمال مقبول یا مردود ہیں، جن کے ساتھ دل کی معرفت اور دل کا عزم ہو۔إِنَّمَا الاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ نیتوں کے ساتھ ضروری ہے کہ شعور و تمیز وعلم، دل کی عظمت اور خواہش، قوت فیصلہ وارادہ اور قدرت فعلی جیسے سب عناصر موجود ہوں۔اس لئے امام بخاری نے مَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ سے علم و عرفان و عزم کے متعلق لطیف استدلال کیا ہے کہ یہ باتیں زبان کے اقرار کے ساتھ ضروری ہیں۔إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَاعْلَمَكُمُ بِاللهِ اَنَا : اس حدیث کا تعلق بھی نفس مضمون کے ساتھ واضح ہے کہ عرفان ایمان کا ضروری جزء کیوں ہے؟ اس لئے کہ انسان بغیر کچی معرفت کے اعمال میں حد وسط پر قائم نہیں رہتا۔بلکہ افراط و تفریط کی طرف نکل جاتا ہے۔اس نکتہ کو واضح کرنے کے لئے ان صحابہ کی مثال بیان کی ہے جو عبادت پر حد سے زیادہ زور دیتے تھے۔نماز پڑھنے کے لئے جو کھڑے ہوئے ، ساری رات نماز پڑھتے رہے۔روزہ جو شروع کیا تو لگا تار بغیر افطاری یا سحری کھانے کے روزہ رکھتے رہے۔گویا اطاعت سے نہیں بلکہ اپنے اعمال کے زور سے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے تھے۔یہ