صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 56 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 56

صحيح البخاری جلد ا ۵۶ ٢ - كتاب الإيمان صلى الله عليه ایک نبی پیدا ہونے والا ہے اور اس کے ذریعہ ان کو نمایاں کامیابی حاصل ہوگی ۔ ان لوگوں نے مدینہ جا کر آنحضرت علی کے متعلق اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ جس سے لوگوں پر گہرا اثر ہوا۔ دوسرے حج میں بارہ آدمی مدینہ سے آئے اور انہوں نے عقبہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ یہ عقبہ کی پہلی بیعت لی بیعت ہے جو ہجرت سے سوا سال پہلے ہوئی۔ دوسرے حج میں پچھتر (۷۵) آدمی جن میں دو عورتیں بھی تھیں، میں، مدینہ سے اس نیت سے آئے کہ آنحضرت انحضرت ص صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کریں اور بوجہ اس کے کہ کفار قریش آپ کو اور دوسرے مسلمانوں کو سخت دکھ دے رہے تھے، آپ کو مدینہ جانے کی دعوت دیں۔ رات کے آخری حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے عقبہ میں ملے۔ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب بھی آپ کے ساتھ تھے اور یہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ آپؐ نے ان لوگوں سے بیعت لی اور ایک دوسرے کے مال و جان وعزت کی حفاظت کرنے کے متعلق آپس میں معاہدہ ہوا۔ جس کو ان لوگوں نے بڑی بڑی جانفشانیوں کے ساتھ پورا کیا اور اس وجہ سے وہ انصار کہلائے اور اس بات کے مستحق ٹھہرے کہ ہر مسلمان ان سے محبت رکھے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی شخص سے محبت کرنے کی یہ ایک مثال ہے جو یہاں ضمنا بیان کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے میں سے بارہ آدمی منتخب کرنے کے لئے فرمایا۔ جو اپنے اپنے قبیلہ کے ذمہ دار ہوں۔ یہی وہ نقیب تھے، جن کا حدیث میں ذکر ہے۔ ان میں ایک حضرت عبادہ بن صامت بھی ہیں ، جو خزرج قبیلہ میں سے تھے۔ ان نقیبوں میں سے نو آدمی قبیلہ خزرج کے تھے، جن کے نام یہ ہیں: اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع ، عبد الله بن رواحہ، رافع بن مالک، براء بن معرور، عبداللہ بن معرور، عبداللہ بن عمرو، سعد بن عبادہ اور منذر بن عمرو اور تین آدمی اوس کے تھے، جن کے نام یہ ہیں: اسید بن حضیر ، سعد بن خیمہ اور ابو الہیثم ۔ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَاَرْجُلِكُمْ : شارحین نے بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ کی مختلف تو جیہیں کی ہیں۔ لفظی معنے تو یہ ہیں: جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑتے ہو اور اس سے مراد یہ ہے کہ خود اپنی طرف سے دیکھتے بھالتے جھوٹی بات بناتے ہو اور بَيْنَ أَظْهَرِنَا، بَيْنَ أَيْدِينَا ، بَيْنَ أَرْجُلِنَا کا محاورہ عام طور پر سامنے، درمیان، موجودگی کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ شارحین نے یہاں یہ بحث اٹھائی ہے: آیا شرعی سزائیں گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں یا نہیں اور ان کے ساتھ تو بہ کی بھی ضرورت ہے یا نہیں۔ جمہور کا یہ مذہب ہے کہ توبہ کی ضرورت نہیں۔ معتزلہ کے نزدیک تو بہ ضروری ہے۔ امام ابن حزم اور بعض مفسرین کا بھی یہی اعتقاد ہے۔ یہاں یہ بحث مقصود بالذات نہیں ۔ بلکہ وہ مصیبتیں مراد ہیں جن کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ وہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۹۴) باب ۱۲ : مِنَ الدِّيْنِ الْفِرَارُ مِنَ الْفِتَنِ فتنوں سے بھا گنا بھی دین میں سے ہی ہے ۱۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ ۱۹: عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے