صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 54
صحيح البخاری جلد ا ۵۴ ٢ - كتاب الإيمان غرض ایمان جب تک احساسات کے دائرہ میں داخل نہیں ہو جا تا وہ بے جان ہوتا ہے اور کسی کام کا نہیں۔اس وقت تک قوت عملی اس سے بالکل مفقود ہوتی ہے، جب تک کہ عرفان ویقین ایمان کی روح رواں نہ ہو جائیں۔انجیل کہتی ہے کہ تو اپنے دشمن سے بھی محبت رکھ۔(متی باب ۵، آیت ۴۴- لوقا باب ۶ ، آیت ۲۷) مگر قرآن مجید کی یہ تعلیم ہے کہ تم کسی کے دشمن نہ بنو۔تمہاری محبت اور تمہاری دشمنی سب اللہ کی خاطر ہو۔اس کا محبوب تمہارا محبوب ہواور اس کا دشمن تمہارا دشمن۔اپنے نفس کی خواہش سے نہ کسی سے محبت ہو نہ نفرت۔یہ ہے خالص ایمان کا تقاضا اور اس کی علامت۔پس نیت کے فرق سے محبت و بغض کی نوعیت میں فرق ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور دعا نُحب بحُبِّكَ مَنْ أَحَبَّكَ وَنُعَادِى بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ مِنْ خَلْقِكَ۔* ترجمہ: ہم تیری محبت کی وجہ سے اس سے محبت کرتے ہیں جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری مخلوق میں سے جو تجھ سے مخالفت رکھتا ہے۔اس کی تجھ سے دشمنی کی وجہ سے ہم اس سے دشمنی رکھتے ہیں؟ کا یہی مفہوم ہے۔باب ۱۱ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ ۱۸: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا :۱۸ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں أَبُو إِدْرِيسَ عَائِدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نے کہا کہ ابو ادریس عائذ اللہ بن عبد اللہ نے مجھے بتلایا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا اور حضرت عبادہ جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے اور عقبہ کی رات یہ بھی نقیبوں میں سے لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ایک نقیب تھے۔یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِّنْ وَسلم نے جبکہ آپ کے ارد گرد آپ کے صحابہ کا ایک أَصْحَابِهِ بَايِعُوْنِي عَلَى أَنْ لَّا تُشْرِكُوا گروہ تھا۔فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو، اس بات پر کہ بِاللَّهِ شَيْئًا وَّلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔نہ ہی چوری کرو گے نہ زنا اور نہ ہی اولاد کو قتل کرو گے اور تم تَقْتُلُوْا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانِ دیده دانستہ بہتان نہیں باندھو گے اور نہ بھلی بات میں تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تم نا فرمانی کرو گے۔پس جس نے بھی تم میں سے یہ تَعْصُوا فِي مَعْرُوْفِ فَمَنْ وَّفى مِنْكُمْ عہد پورا کیا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا اور جس ترمذی کتاب الدعوات - باب ماجاء ما يقول اذا قام من الليل)