صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 55
صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ نے ان (بدیوں) میں سے کوئی (بدی) کی اور پھر دنیا شَيْئًا فَعُوْقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ میں اُسے سزا مل گئی تو یہ سزا اس کے لئے کفارہ ہوگی وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر اللَّهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ اللہ تعالی نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے۔اللہ چاہے تو اس سے در گذر کرے شَاءَ عَاقَبَهُ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ۔اور چاہے تو اُسے سزا دے۔سو ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی۔اطرافه: ۳۸۹۲، ۳۸۹۳، ۳۹۹۹، ٤۸۹۴، ۶۷۸٤ ، ۶۸۰۱، ۶۸۷۳، ۷۰۰۰، ٧٤٦۸ ،۷۲۱۳ ،۷۱۹۹ تشریح: امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترک شر، کفر سے نفرت اور اللہ تعالی اور اس کے پاک بندوں سے محبت کرنے کو ایمان کا جزء قرار دیا ہے۔اس مناسبت سے باب مذکور میں پہلے ان امور کا مجموعی طور پر ذکر کیا ہے، جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت لی تھی۔جن باتوں میں بیعت لی گئی ہے وہ محض سلبی حیثیت رکھتے ہیں اور ترک شر کی قسم میں سے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی طرف اشارہ کر کے امام موصوف نے بتلایا ہے کہ آپ نے ترک شر کے پہلو کو اتنا ضروری سمجھا کہ اس کے متعلق آپ نے مردوں سے بھی اور عورتوں سے بھی بیعت لی۔کیونکہ ایمان کی ابتدائی حالت میں سب سے بڑا مجاہدہ انسان کا بدیوں سے بچنا ہے اور ان سے بچنا کیا بلحاظ اعتقاد اور کیا بلحاظ عمل کے ایمان کا ضروری جزء ہے۔جیسا کہ آگے جا کر یہ مضمون اور بھی زیادہ واضح کیا گیا ہے اور چونکہ ایمان کی ابتدائی حالت یعنی ترک شر اور حلاوت ایمان کے مضمون کو واضح کرنا مقصود تھا۔اس لئے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے باب کا کوئی نیا عنوان قائم نہیں کیا۔امام ابن حجر اور علامہ عینی نے ترتیب مضمون بتانے کے لئے یہ جو کہا ہے کہ پہلی حدیث میں انصار سے محبت کرنے کا ذکر تھا۔اس لئے یہاں اس امتیاز کی طرف اشارہ کیا ہے، جو انصار کو بوجہ اپنی اس ابتدائی قربانیوں کے حاصل ہے اور وہ اس محبت کے مستحق ہیں۔نفس مضمون کے اعتبار سے یہ ایک جزئی تعلق ہے۔ہوسکتا ہے کہ امام بخاریؒ نے اسے بھی ملحوظ رکھا ہو۔لیکن دراصل سلسلہ تعلق وہی ہے جو مابعد کی احادیث میں بھی چلا جا رہا ہے۔لَيْلَةُ الْعَقَبَةِ: "عقبة " مکہ کی ایک پہاڑی کا نام ہے، جو ٹی میں ہے۔یہ پہاڑی اسلامی تاریخ میں نہایت مشہور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ حج کے ایام میں مختلف قبیلوں میں جا کر تبلیغ کیا کرتے اور اُن کو دعوت اسلام دیتے۔مدینہ میں دو مشہور قبیلے تھے اوس اور خزرج۔پہلے انہوں نے اپنی خانہ جنگیوں کی وجہ سے چنداں توجہ نہ کی۔بعاث کی مشہور جنگ سے فارغ ہونے کے بعد خزرج کے کچھ لوگ جو مکہ میں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حسب عادت مخاطب فرمایا اور انہوں نے اچھا اثر لیا۔کیونکہ مدینہ کے یہود سے وہ سنتے چلے آئے تھے کہ عرب میں