صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 53
صحيح البخاری جلد ا ۵۳ باب ۱۰ : عَلَامَةُ الْإِيْمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ انصار سے بھی محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے ٢ - كتاب الإيمان ۱۷: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا : ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ جبر نے مجھے بتلایا۔کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْإِيْمَانِ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ آپ نے فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے دشمنی رکھنا نفاق کی علامت ہے۔الْأَنْصَارِ۔طرفه: ٣٧٨٤ تشریح حَلَاوَةُ الْإِيمَانِ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسلام کے متعلق پہلے وہ حدیثیں لائے ہیں، جن کا تعلق زیادہ تر عمل و اخلاق کے ساتھ ہے۔اس کے بعد ایمان کے متعلق وہ حدیثیں لائے ہیں جن کا تعلق قلبی احساسات و عواطف کے ساتھ ہے۔چنانچہ حدیث نمبر ۱۴، ۱۶،۱۵، ۱۷ میں اللہ ورسول وانصار اور ہر شخص سے اللہ کی خاطر محبت رکھنا ایمان کا اور ان سے بغض رکھنا نفاق کا جزء۔نیز کفر سے نفرت کرنا بھی ایمان کا جزء قرار دیا گیا ہے۔غرض ان حوالوں سے امام بخاری نے اسلام و ایمان کے درمیان ایک باریک فرق نمایاں کر کے دکھلا دیا ہے۔حدیث نمبر ۱۶ میں حلاوت ایمان سے نفس کی وہ انفعالی حالت مراد ہے۔جو ایمان کی ارتقائی حالت کا لازمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کی تجلیات ایمان میں محبت کا مزہ پیدا کرتی ہیں۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا مطالعہ بھی ایمانی محبت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔وَاَنْ يُحِبُّ الْمَرْوَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ: حدیث نمبر 1 میں اس وہم کا بھی ازالہ کردیا گیا ہے کہ رسول اللہ یا کسی اور شخص کی محبت ایک قسم کا شرک ہے۔ہر ایک محبت اگر اللہ تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو وہ شرک نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا لازمی نتیجہ ہے۔وَاَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ کہہ کر رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم وانصار کی محبت کے متعلق جو شرک کا شبہ پیدا ہوسکتا تھا، اُسے دور کر دیا ہے۔مدینہ کے مسلمانوں کو انصار اس لئے کہا جاتا تھا کہ انہوں نے آڑے وقت میں بے خان و مال مہاجرین کی مدد کی تھی۔وہ محبت جو ایمان میں جلوہ گر ہوتی ہے، کسی مصلحت یا خود غرضی پر مبنی نہیں ہوتی اور نہ اس کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہوکر اللہ تعالیٰ کی محبت کی طرح وہ ہر اس چیز کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے جو اللہ تعالی کی ہوتی ہے۔یہی محبت کا احساس پیدا کرنے اور اس احساس کو زندہ رکھنے کے لئے التحیات میں آنحضرت ﷺ اور تمام مومنین کے لئے دعا کرنے کی عملی تعلیم بھی دی گئی ہے۔