صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 144
صحيح البخاری جلد ا ۱۴ ٣- كتاب العلم قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حدیث کے رسول اللہ ﷺ سے اور کوئی حدیث وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَقَالَ إِنَّ مِنَ روایت کرتے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ صلى الله عليه الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الْمُسْلِم کے پاس تھے۔ آپ کے پاس کھجور کا ایک گاہھہ لایا سے ایک درخت فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ فَإِذَا أَنَا گیا آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ہے جس کی مثال مسلمان کی سی ہے۔ اس پر میں نے أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ چاہا کہ کہوں : وہ کھجور ہے۔ مگر میں دیکھتا تھا کہ میں لوگوں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ۔ میں سے سب سے چھوٹی عمر کا ہوں۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ آخر نبی صلی الم نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ اطرافه: ٦١، ٦٢ ، ۱۳۱، ۲۲۰۹، ٤٦٩٨، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٢٢، ٦١٤٤۔ تشریح : الفَهُمُ فِي الْعِلْمِ : امام بخاری نے اب یہ باندھا ہے الفَهُمْ فِی الْعِلْمِ اور حدیث میں یہ ضمون ہے کہ مومن کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا کیا جوڑ ۔ اس واقعہ سے وہ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ الْفَهُمْ فِي الْعِلْمِ سے مراد قیاسات سے باریک دربار یک باتوں کو سمجھنا اور مقدمات اور قرائن سے نتائج اخذ کرنا ہے۔ خالی الفاظ کے رٹنے کا نام علم وفقہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا گا بھہ لایا گیا اور آپ نے اس پر مذکورہ بالا سوال کیا ۔ لوگ تو جواب کے لئے جنگل کے درختوں کی طرف خیال دوڑانے لگے۔ مگر حضرت ابن عمر نے نزدیک سے ہی گا بھہ دیکھ کر کھجور پر قیاس کیا اور یہ قیاس صحیح تھا۔ امام ابن حجر نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۱۷) یہ تیرہواں ادب ہے علم کے متعلق علم میں فہم ؛ جزئیات پر نظر رکھنے اور صحیح قیاس کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ باب ١٥ : الْاِغْتِبَاطُ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ علم اور حکمت میں رشک کرنا وَقَالَ عُمَرُ تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا اور حضرت عمر کہتے تھے کہ سمجھ پیدا کرو، پیشر اس کے قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَعْدَ أَنْ تُسَوَّدُوْا وَقَدْ کہ تم سردار بنائے جاؤ اور ابو عبداللہ ( بخاری ) نے تَعَلَّمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا: سردار بنائے جانے کے بعد بھی۔ صحابہ نے وَسَلَّمَ فِي كِبَرِ سِنِهِمْ۔ بوڑھے ہو جانے کی عمر میں بھی علم حاصل کیا۔ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۳ : ہم سے حمیدی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: جو بات أَبِي خَالِدٍ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ زُہری نے ہمیں بتلائی تھی ، اسماعیل بن ابی خالد نے