صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 145 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 145

صحيح البخاری جلد ا الله ٣- كتاب العلم الزُّهْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي مُجھ سے اس کے برعکس کچھ اور بیان کیا۔ اسماعیل کہتے حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ تھے: میں نے قیس بن ابی حازم سے ۔ حازم سے سنا۔ انہوں نے قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے سنا۔ وہ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف دوہی تو وہ شخص جسے مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ باتوں میں رشک کرنا جائز ہے ۔ ایک تو وہ اللہ مال دے۔ پھر اس کو بر حل بے دریغ خرچ کرنے وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي کی طاقت دے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ۔ دی تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو ( اور عمل کرتا ہو ) اور اوروں کو بھی سکھاتا ہو۔ اطرافه ٦١، ٦٢، ۱۳۱، ۲۲۰۹، ٤٦٩۸، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٢٢، ٦١٤٤۔ تشريح : الاعْتِبَاطُ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْةِ: لوگں نے عموما دو چیزوں کو عادت و خیرو برکت کا موجب قرار دیا ہے۔ حکومت اور دولتمندی کو ۔ بڑے سے بڑا رشک جو ایک دنیا دار کو ہو سکتا ہے وہ ان دو باتوں پر ہے۔ ان سے بڑھ کر ان کی پرواز نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بالمقابل مال اور علم کا ذکر فرمایا ہے جو اپنی بہبودی اور بنی نوع انسان کی اصلاح میں کھلے دل سے خرچ کیا جاتا ہو۔ ایسے مال دار عالم پر رشک کرنا چاہیے۔ حکمت سے مراد حقائق الاشیاء سے واقفیت ہے اور حسد سے یہاں رشک کرنا مراد ہے۔ یعنی دوسروں کو جو نعمت ملی ہے اپنے لئے اس کی خواہش کرنا۔ زوال نعمت کی خواہش مراد نہیں ۔ حرص اور حسد فی ذاتہ بری چیزیں نہیں ۔ یہ بھی طبعی استعداد یں ہیں۔ ان کا بے محل استعمال بُرا ہے۔ اہے۔ یہ چودھواں ادب ہے علم کے متعلق ۔ یعنی یہ کہ علم اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لئے سیکھا جائے ۔ باب میں حضرت عمرؓ کا قول جو نقل کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سمجھانا مراد ہے کہ سیادت و ا ہے۔ اس سے یہ سمجھانا مراد ہے کہ سیادت و حکومت کے لئے علم سیکھنا ضروری ہے۔ بلکہ سیادت و حکومت کے حاصل ہونے کے بعد بعد بھی بھی ویسے ویسے ہی ہی عمل علم کی ضرورت ہے جیسا کہ اس سے پہلے۔ مسلمان اسی لئے تباہ ہوئے کہ ان میں علم نہ رہا۔ باب ١٦ : مَا ذُكِرَ فِي ذَهَابِ مُوسَى فِي الْبَحْرِ إِلَى الْخَضِرِ صلى الله حضرت موسیٰ علی کا سمندر میں خضر کے پاس جانے کا جود کا پاس جانے کا جو ذکر آیا ہے وَقَوْلُهُ تَعَالَى : هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (یعنی) کیا میں آپ کی پیروی تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ( الكهف : ٦٧) کروں، بشرطیکہ آپ راستی کی باتیں جو آپ کو سکھائی گئی ہیں؟ مجھے بھی سکھائیں ۔