صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 143 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 143

صحيح البخاري - جلد ا ۱۳ ٣- كتاب العلم لهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ مخالف اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔یہاں تک أَمْرُ اللهُ۔اطرافه: ٣١١٦، ٣٦٤١ ٧٣١٢، ٧٤٦٠ کہ اللہ تعالیٰ کا امر آ جائے۔تیسرے باب میں تعلیم کی اصل غرض و غایت کی طرف اشارہ کیا کہ ایسی سمجھ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تشریح جو انسان کے لئے ہر بھلائی کا موجب بنے اور وہ اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اللہ تعالیٰ سے نور عرفان حاصل ہو۔اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِی سے یہی مراد ہے۔لَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ : اس سے یہ مراد ہے کہ ہمیشہ اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ خود سکھائے گا اور وہ امت کے لئے رہنما ہوں گے۔کوئی زمانہ ایسے ربانی فقیہوں سے خالی نہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ سے نور پا کر اُمت کے اندر تجدید کرنے والے اور اس کو مخالفین کے بداثر سے نجات دینے والے نہ ہوں گے۔جیسا کہ آیت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ ( النور : ۵۶) میں اس کا صریح وعدہ ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۳۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۳۳) حَتَّى يَأْتِيَ اَمْرُ الله سے مراد وہی پیشگوئی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح طور پر بتلایا ہے کہ یہ امت بھی اپنے بد عقائد اور بدکرداری میں عیسائیوں اور یہودیوں کا وتیرہ اختیار کرلے گی۔اگر مسیح کے پوجاری مسیح کو آسمان پر چڑھائیں گے اور خالق الارواح اور محبي الاموات مانیں گے تو یہ بھی مانیں گے اور یہودیوں کی طرح اپنی بد کرداریوں اور گندے اخلاق کی وجہ سے ذلیل اور خوار ہوں گے اور سارے جہان کی لعنت اور انگشت نمائی کا محل بنیں گے۔سو آج ایسا ہی ہوا۔یہ وہ امر اللہ ہے جو ان کے لئے مقدر تھا۔سورہ مومنون میں اسی امر اللہ کے متعلق پیشگوئی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَإِن كُنَّا لَمُبْتَلِينَ (المؤمنون: ۳۱) { اور ہم بہر حال ابتلا ءلانے والے تھے۔} اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرنے کے لئے فرمایا: وَقُلْ رَّبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ۔(المؤمنون: (۳۰) { اور تو کہہ کہ اے میرے رب! تو مجھے ایک مبارک اُترنے کی جگہ پر اُتار اور تو اُتارنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔} بَابِ ١٤: الْفَهْمُ فِي الْعِلْمِ علم میں سمجھ پیدا کرنا ۷۲: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۷۲ ہم سے علی ( بن عبد اللہ ) نے بیان کیا کہ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ابن ابی نجیح قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ نے مجاہد سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ وہ فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ کہتے تھے کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ ( مکہ سے ) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا مدين (تک) گیا۔میں نے ان کو سوائے ایک