صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 64
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۴ ۸۹- كتاب الإكراه ہوں اس کو پسند کرتے ہیں۔ اس سے سمجھ لو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق کا مزا اور لطف نہیں تو پھر یہ گروہ کے تو پھر یہ گروہ کیوں مصائب اُٹھاتے ہیں ؟ آ ٹھاتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ وسلم کے حالات کو پڑھو کہ کفار نے کس قدر دکھ آپ صلی الایام کو دیئے۔ آپ صلی علیم کے قتل کا منصوبہ کیا گیا۔ طائف میں گئے تو وہاں سے خون آلود ہو کر پھرے۔ آخر مکہ سے الله سلم۔ علوم نکلنا پڑا۔ مگر وہ بات جو دل میں تھی اور جس کے لیے آپ صلی ایام مبعوث ہوئے تھے اُسے ایک آن کے لئے بھی نہ چھوڑا۔ یہ مصائب اور تکالیف کبھی برداشت نہیں ہو سکتیں جب تک اندرونی کشش نہ ہو۔ ایک غریب انسان کے لیے دو چار د ، دو چار دشمن بھی ہوں وہ تنگ آجاتا ہے اور آخر صلح کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے مگر وہ جس کا سارا جہاں دشمن ہو وہ کیونکر اس بوجھ کو برداشت کرے گا، اگر قوی تعلق نہ ہو۔ عقل اس کو قبول نہیں کرتی۔ مختصر یہ کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی لذت ساری لذتوں سے بڑھ کر ترازو میں ثابت ہوتی ہے۔ پس وہ لذات جو بہشت میں ملیں گی، یہ وہی لذتیں ہیں جو پہلے اُٹھا چکے ہیں اور وہی ان کو سمجھتے ہیں جو پہلے اُٹھا چکے ہیں۔“ ملفوظات جلد ۴ صفحه ۴۰۲، ۴۰۳) بَاب ۱ : مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ جس نے کفر کے بالمقابل مار پیٹ اور قتل اور ذلت کو پسند کیا ٦٩٤١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ۶۹۴۱: محمد بن عبد اللہ بن حوشب طائفی نے ہم سے حَوْشَبِ الطَّائِفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بیان کیا کہ عبد الوہاب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ابو قلابہ سے، ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَنْ كُنَّ تین باتیں ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں وہ ایمان فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ، أَنْ يَكُونَ کی حلاوت پاتا ہے۔ یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا كو ان تمام چیزوں سے زیادہ پیارے ہوں جو اُن وَأَنْ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ کے سوا ہیں اور یہ کہ وہ کسی آدمی سے محبت رکھے تو اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: