صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 63
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۳ ۸۹- كتاب الإكراه سے رد نہیں کرتا۔ یہ تو تعلیم قرآنی ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات رحمت اور مغفرت کے بالکل مطابق ہے ۔ “ ( نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹، صفحه ۴۱۲، ۴۱۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " وإني عاشرت الخواص والعوام، ورأيت كل طبقة من الأنام، ولكني ما رأيت سيرة التقية وإخفاء الحق والحقيقة إلا فى الذين لا يبالون علاقة حضرة العزة ووالله لا ترضى نفسى لطرفة عين أن أداهن في الدين ولو قطعت بالسكين وكذلك كل من هداه الله فضلا و رحما ورزق من الإخلاص رزقا حسنا، فلا يرضى بالنفاق وسير المنافقين أما قرأت قصة قوم اختاروا الموت على حياة المداهنة وما شاء وا أن يعيشوا طرفة عين بالتقية وقالوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف: ۱۲۷)۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سر الخلافہ ، روحانی خزائن جلد ۸، صفحه ۳۵۱) میں دیکھتا ہوں کہ بعض کچھے لوگ داخل ہو جاتے ہیں اور کا داخل ہو جاتے ہیں اور پھر ذرا سی دھمکی ملتی ہے اور لوگ ڈراتے ہیں تو پھر خط لکھ دیتے ہیں کہ کچھ تقیہ کر لیا ہے۔ بتاؤ انبیاء علیہم السلام اس قسم کے تقیہ کیا کرتے ہیں؟ کبھی نہیں۔ وہ دلیر ہوتے ہیں اور انہیں کسی مصیبت اور دکھ کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ جو کچھ لے کر آتے ہیں اسے چھپا نہیں سکتے خواہ ایک شخص بھی دنیا میں ان کا ساتھی نہ ہو۔ وہ دنیا سے پیار نہیں کرتے۔ ان کا محبوب ایک ہی خدا ہوتا ہے۔ وہ اس راہ میں ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ قتل اے (ترجمہ عربی عبارت) اور میرا میل جول خواص و عام سے رہا ہے اور میں نے ہر طبقہ کے لوگوں کو دیکھا ہے لیکن میں نے تقیہ اور حق و صداقت کو مخفی رکھنے کی سیرت صرف ان لوگوں میں دیکھی ہے جو خدائے رب العزت سے تعلق رکھنے کی پرواہ نہیں کرتے۔ اللہ کی قسم میرا نفس ایک لحظہ کے لئے بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ میں دین کے معاملہ میں مداہنت کروں خواہ چھری سے میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص جسے اللہ نے اپنے فضل و رحم سے ہدایت دی ہو اور جسے اخلاص سے رزق حسن عطا کیا گیا ہو بھی نفاق اور م۔ یا ہو بھی نفاق اور منافقوں کے اطوار کو پسند نہ کہ کے اطوار کو پسند نہ کرے گا۔ کیا تم نے اُن لوگوں کا واقعہ نہیں پڑھا جنہوں نے مداہنت کی زندگی پر موت کو اختیار کیا اور ایک لحظہ کے لئے بھی پسند نہ کیا کہ وہ تقیہ کے ساتھ زندگی گزاریں اور وہ یہ دعا مانگتے رہے کہ رَبَّنا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل کر اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے) (اردو ترجمہ ستر الخلافہ ، صفحہ ۹۲)