صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 844
صحیح البخاری جلد ١٦ سلام مودم با اکر ۹۷- كتاب التوحيد ٧٤٧٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۴۷۰ : محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبد الوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔ خالد حذاء نے ہم الْحَدَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سے بیان کیا۔ خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بدوی کے پاس يَعُودُهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ عَلَيْكَ طَهُورٌ اس کی عیادت کے لئے آئے اور آپؐ نے فرمایا: تمہیں کوئی خوف نہیں۔ ان شاء اللہ یہ بیماری پاک إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ طَهُورٌ بَلْ هُوَ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخِ كَبِيرٍ کرنے کا موجب ہو گی۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے : اس بدوی نے کہا: پاک کرنے کا موجب نہیں تُزِيرُهُ الْقُبُورَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ بلکہ یہ بخار ہے جو بہت بڑے بوڑھے پر جوش مار عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا۔ أطرافه: ٣٦١٦، ٥٦٥٦، ٥٦٦٢۔ رہا ہے اس کو قبروں ہی کی زیارت کرائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہی سہی۔ ٧٤٧١: حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ۷۴۷۱: ابن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے حصین نے أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ حِينَ نَامُوا عَنِ عبد الله بن ابی قتادہ سے، عبد اللہ نے اپنے باپ الصَّلَاةِ قَالَ النَّبِيُّ لا إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ سے روایت کی۔ جب لوگ سوئے رہے نماز نہ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ پڑھ سکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَتَوَضَّعُوا إِلَى أَنْ تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ فَقَامَ اور جب چاہا ان کو لوٹا دیا۔ آخر لوگوں نے اپنی اپنی فَصَلَّى۔ طرفه ٥٩٥ حاجتیں پوری کیں اور وضو کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور اچھی طرح روشن ہو گیا۔ (اس وقت) آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں بھی“ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۵۵۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔