صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 757 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 757

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۵۷ ۹۷ - كتاب التوحيد إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ اس نے فحش باتوں کو حرام کیا وہ بھی جو کھلی کھلی ہیں بَعَثَ الْمُبَشِّرِينَ وَالْمُنْذِرِينَ وَلَا أَحَدَ اور وہ بھی جو چھپی ہوئی ہیں اور کوئی بھی ایسا نہیں أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ جس کو اللہ سے بڑھ کر معذرت پسند ہو اور اسی وجہ سے اس نے خوشخبردی دینے والوں اور ذَلِكَ وَعَدَ اللهُ الْجَنَّةَ۔طرفه: ٦٨٤٦۔ڈرانے والوں کو بھیجا ہے اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر تعریف زیادہ پسند ہو اور اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔رح۔قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ الله نبی صلی الہ علیہ وسلم کا ی فرمانا: کوئی شخص اللہ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں۔علامہ عینی غیرت کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد عزت اور خودداری ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۵ صفحہ ۱۰۹) علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ غیرت کے لوازمات میں سے ہے کہ کسی چیز سے روک دینا اور اس کے متعلق حمیت دکھانا۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۴۹۱) قاضی عیاض کا قول ہے کہ جس چیز میں خصوصیت حاصل ہو، اُس میں کسی دوسرے کی شراکت کے سبب قلبی کیفیت کے بدلنے اور غضب کے بھڑکنے سے غیرت کا اظہار ہوتا ہے۔انسانوں میں سب سے زیادہ غیرت خاوند اور بیوی میں باہمی تعلقات کے متعلق ہوتی ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ کی غیرت فحشاء کے متعلق زجر و توبیخ اور انہیں حرام اور منع قرار دینے میں ہے اور اس امر کی وضاحت حدیث کے الفاظ ومن أَجلِ غَيْرَةِ اللهِ حَرَّمَ الفَوَاحِشَ سے ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی غیرت کی وجہ سے فَوَاحِشَ کو حرام ٹھہرایا ہے۔فَوَاحِشَ لفظ فَاحِشَةً کی جمع ہے اور اس سے ہر بُری خصلت مراد ہوتی ہے خواہ وہ اقوال میں سے ہو یا افعال میں سے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۵ صفحہ ۱۱۰،۱۰۹) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ غیرت کوئی انسان دکھا سکتا ہے۔اگر خدا تعالٰی غیرت نہیں دکھاتا تو اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہمارے اندر غیرت نہیں ہوتی۔اس لئے خدا تعالیٰ بھی غیرت نہیں دکھاتا یا پھر ہمارے اندر جھوٹی غیرت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی غیرت یا تو ایسے بے غیرتوں کے لئے نہیں بھڑکتی جو اصل میں شعائر اللہ اور دین کے ساتھ جنسی کرنے والوں کے خلاف سچی غیرت نہیں رکھتے اور یا ان لوگوں کے لئے نہیں بھڑکتی جو ایسے جوشیلے ہوں کہ اپنے آپ کو