صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 746
صحیح البخاری جلد ۱۶ سم کے ۹۷ - كتاب التوحيد مر جاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خود کشی کرنے والی ہے۔آپ نے فرمایا ایسی حالت میں ضروری ہے کہ بچہ کو نکلوا دیا جائے کیوں کہ بچہ کے متعلق تو ہمیں کچھ علم نہیں کہ اُس نے کیسا بنتا ہے مگر ایک زندہ وجود ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اُس کی جان کی حفاظت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ اس کو بچایا جائے اور اس کے بچے کو تلف ہونے دیا جائے۔لیکن اگر کوئی خشیتہ اطلاق کی وجہ سے عزل کرتا یا حمل کو نکلواتا ہے تو وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔بہر حال عزل کے جواز یا عدم جواز کا فتویٰ عورت کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اگر ضرورت کے موقع پر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ جائز ہے۔اگر بلاضرورت کیا جاتا ہے تو نا پسندیدہ ہے اور اگر نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو حرام ہے۔( تفسیر کبیر، سورۃ التکویر، زیر آیت وَإِذَا الْمَوْدَةُ سُبلت جلد ۸ صفحه ۲۲۳) 66 بَاب ۱۹ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (ص: ٧٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا تھا ٧٤١٠: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۷۴۱۰: معاذ بن فضالہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے حضرت انس سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ مومنوں کو اکٹھا کرے گا اسی طرح (جس طرح ہم اکٹھے ہوتے ہیں ) اور وہ کہیں گے: اگر ہم اپنے رب کے پاس کوئی سفارش لے جائیں تاکہ وہ ہمیں اپنی اس كَذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَّكَانِنَا هَذَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَمَا جگہ سے نکال کر آرام دے، تو وہ حضرت آدم تَرَى النَّاسَ خَلَقَكَ اللهُ بِيَدِهِ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آدم! کیا آپ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ لوگوں کی حالت نہیں دیکھتے؟ اللہ نے آپ کو اپنے كُلِّ شَيْءٍ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنے فرشتوں کو آپ کا يُرِيحَنَا مِنْ مَّكَانِنَا هَذَا فَيَقُولُ لَسْتُ فرمانبردار بنایا۔آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔