صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 747
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۴۷ ۹۷ - كتاب التوحيد هُنَاكَ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي اپنے ربّ کے پاس ہماری سفارش تو کریں تا وہ أَصَابَ وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ ہماری اس جگہ سے ہمیں چھٹکارا دلائے۔تو حضرت رَسُولٍ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ آدم کہیں گے : میں تو اس مقام پر نہیں اور وہ ان فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكَ سے اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ وَلَكِنْ کی۔کہیں گے : تم نوح کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ فَيَأْتُونَ رسول ہیں جن کو اللہ نے زمین والوں کی طرف بھیجا۔اس پر وہ حضرت نوح کے پاس آئیں گے إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ اور حضرت نوح کہیں گے : میں اس مقام پر نہیں لَهُمْ خَطَايَاهُ الَّتِي أَصَابَهَا وَلَكِنْ اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے کی۔اپنی ائْتُوا مُوسَی عَبْدًا آتَاهُ اللهُ التَّوْرَاةَ کہیں گے : بلکہ تم ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ وَكَلَّمَهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ اور وہ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے۔حضرت لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ ابراہیمؑ کہیں گے : میں اس مقام پر نہیں اور ان الَّتِي أَصَابَهَا وَلَكِنْ ائْتُوا عِیسَی عَبْدَ سے اپنی غلطیوں کا ذکر کریں گے جو انہوں نے اللهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَتَهُ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ کیں۔البتہ تم موسی کے پاس جاؤ جو ایسے بندے عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ تھے کہ اللہ نے ان کو تورات دی تھی اور ان سے ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خوب باتیں کی تھیں۔اس پر وہ حضرت موسیٰ کے عَبْدًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے : میں اس مقام پر نہیں ہوں اور وہ ان سے اپنی غلطی کا ذکر کریں تَأَخَّرَ فَيَأْتُونَنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ گے جو انہوں نے کی۔البتہ عیسی کے پاس جاؤ جو عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ اور رَبِّي وَقَعْتُ لَهُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا اس کی روح ہیں۔( یہ جواب سن کر) وہ حضرت شَاءَ اللهُ أَنْ يُدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ لِي عیسی کے پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے : میں اس ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ يُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ مقام پر نہیں بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ کے پاس جاؤ جو ایسے بندے ہیں کہ ان کے وہ تمام