صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 725 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 725

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۲۵ ۹۷ - كتاب التوحيد ٧٤٠١: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۴۰۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ورقاء نے وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے، ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفُوا کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِآبَائِكُمْ وَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ اور جس نے قسم کھانی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے۔بالله۔أطرافه : ٢٦٧٩، ٣٨٣٦، ٦١٠٨، ٦٦٤٦، ٦٦٤٧، ٦٦٤٨- تشریح : السُّؤَالُ بِأَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى وَالِاسْتعاذہ بہا: اللہ کے ناموں کے ذریعہ مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہتا۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: فرمایا: قُلِ ادْعُوا اللهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ اَيَّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (بنی اسرائیل: ۱۱۱) تو کہہ دے کہ خواہ اللہ کو پکارو، خواہ رحمن کو جس نام سے بھی تم پکار و سب اچھے نام اسی کے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے مختلف نام ہیں، مختلف صفات ہیں۔تم اپنی ضرورت کے مطابق میرے ناموں کا حوالہ دے کر میری صفات کا حوالہ دے کر مجھے پکارو تو میں اپنے ناموں کا اتنا پاس رکھنے والا ہوں کہ اگر میری رحمانیت کی ضرورت ہے تو اس صورت میں بندے کے لئے رحمانیت جوش میں آئے گی، اگر رحیمیت کی ضرورت ہے تو بندے کے لئے رحیمیت جوش میں آئے گی۔اگر وہاب نام سے پکارو گے اور اس کی ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔غرض کہ اللہ کے جو بے شمار نام ہیں اور یہ تمام نام اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو سننے کے لئے ہی ہمیں سکھائے ہیں، یہ سب صفات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس لئے ظاہر فرمائیں کہ ان کا فہم و ادراک حاصل کرتے ہوئے، ان صفات کے حوالے سے اس کو پکارا جائے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲۲/ ستمبر ۲۰۰۶ء، جلد ۴ صفحه ۴۸۳