صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 50 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 50

صحيح البخاری جلد ١٦ ۵۰ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين تشریح : مَا جَاءَ في المُتولدين: تاویل کرنے والوں کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔امام بخاری ابواب : کی ترتیب سے مضامین کے عقدے کھولتے ہیں اور عنوان باب سے غلط مفہوم کا قبلہ درست کرتے ہیں۔گذشتہ باب میں فئتین سے حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے دو گروہ مراد لئے گئے ہیں۔امام بخاریؒ حضرت امیر معاویہ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے ان کے اجتہاد کو غلط تاویل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور انہوں نے حضرت علی کے خلاف جو تاویل کی وہ اگر چہ درست نہ تھی اور حضرت علیؓ کے خلاف جنگ جائز نہ تھی مگر وہ اپنے اجتہاد میں خلافت کے ہی قیام و استحکام کے لئے کوشاں تھے اور مجتہد اپنی نیک نیتی سے ایک تاویل کرتا ہے تو گو وہ تاویل غلط ہو مگر اسے شک کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔اس امر کو نمایاں کرنے کے لئے امام بخاری اس باب میں سات قراء توں کے متعلق روایت لائے ہیں اور حضرت عمر کا رد عمل دکھا کر بتایا ہے کہ جب تک ان کو اصل حقیقت معلوم نہ ہوئی وہ حضرت ہشام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے مگر حقیقت معلوم ہونے پر فوراً چھوڑ دیا۔پس سات قراء توں سے یہ جو از تو نکلتا ہے کہ ایک شخص کسی آیت کا ایک مفہوم سمجھے اور دوسرا کوئی اور مفہوم اخذ کرے، اس میں وسعت ہے۔اس وسعت کی تعیین خدا کا نبی ہی کر سکتا ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور آخری دور میں آپ کے بروز کامل حکم عدل نے کی۔اس لئے مسلمہ اتھارٹی کے بغیر اس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔أَيْنَ مَالِكُ بْنَ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَا ذَلِكَ مُنَافِقُ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ: مالک بن دخشن کہاں ہے ؟ تو ہم میں سے ایک نے کہا: وہ منافق ہے۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "حضرت مالک بن دخیشن یا ابن دخشن ان انصار میں سے تھے جو جنگ بدر میں شریک ہوئے۔منافقین کی مشہور مسجد ضرار جلانے کے لئے جو دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی تھے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۷۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں متہم کرنے والے کو منع فرمایا کیونکہ آپ اُن کا اخلاص آزما چکے تھے۔جس نے اُن کو متہم کیا ہے اس نے غالباً منافقوں کے ساتھ اُن کے ظاہری میل جول کو دیکھ کر جلد بازی سے کام لیا اس لئے اس نے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی جو مقام ادب کے تقاضا کے عین مطابق ہے۔اخلاص پیدا ہونے کے بعد عمل خود بخود حیز وجود میں آجاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن دخشن کی طرف سے جو مدافعت فرمائی ہے وہ علی البصیرت اپنے تجربہ کی بناء پر ہے۔آج کتنے مسلمان ہیں جن کا زبانی اقرار کلمہ شہادت خلوص قلب