صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 49
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۹ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔ صا الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللهِ لے کر وہ رسول اللہ صلی علیم کے پاس آئے۔ حضرت رقم قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے تو اللہ اور اس کے فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ رسول اور رسول اور مؤمنوں سے خیانت کی ہے مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ دوم نے فرمایا: حاطب ! اس پر تم کو کس بات نے آمادہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا حَمَلكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ يَا کیا ؟ حاطب نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کیا ہوا تھا کہ رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَنْ لَّا أَكُونَ مُؤْمِنًا میں اللہ اور اس کے رسول کا مؤمن نہ رہتا مگر اصل بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ حقیقت یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ ان لوگوں پر میرا لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يُدْفَعُ بِهَا عَنْ أَهْلِي بھی کوئی احسان ہو تا کہ جس کے ذریعہ سے میرے وَمَالِي وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا کنبہ اور میری جائیداد کی حفاظت کی جائے اور آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کی لَهُ هُنَالِكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ۔ قَالَ صَدَقَ لَا تَقُولُوا قوم سے وہاں ایسے لوگ نہ ہوں کہ جن کے ذریعہ سے اللہ اس کے کنبے اور جائیداد کی حفاظت کر رہا لَهُ إِلَّا خَيْرًا۔ قَالَ فَعَادَ عُمَرُ فَقَالَ يَا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: حاطب نے سچ کہا ہے۔ اس رَسُولَ اللهِ قَدْ خَانَ اللهَ وَرَسُولَهُ کے متعلق بھلی بات ہی کہو۔ حضرت علی کہتے تھے۔ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي فَلِأَضْرِبْ عُنُقَهُ۔ حضرت عمرؓ نے دوبارہ وہی کہا: یا رسول اللہ ! اس نے قَالَ أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ وَمَا يُدْرِيكَ تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے خیانت لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ اعْمَلُوا کی ہے۔ مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ أَوْجَبْتُ لَكُمُ الْجَنَّةَ دوں۔ آپ نے فرمایا: کیا وہ بدر والوں میں سے نہیں ہے ؟ اور تمہیں کیا پتہ کہ شاید اللہ نے ان کو فَاغْرَوْ رَقَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔ جھانک کر دیکھا ہو اور فرمایا ہو : جو تم چاہو کرو میں تمہارے لئے جنت لازم کر چکا۔ یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور کہنے لگے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ أطرافه: ۳۰۰۷ ، ۳۰۸۱ ، ۳۹۸۳، ٤٢۷۴، ٤٨٩٠، ٦٢٥٩۔