صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 709
صحیح البخاری جلد ۱۶ 2+9 ۹۷ - كتاب التوحيد سے اپنے آپ کو محروم رکھنا۔نہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرے اور نہ بندوں کے ساتھ اور نہ اپنے نفس کو حقیقی سعادت سے متمتع ہونے دیا جائے۔مغفرت کی وضاحت کتاب الایمان باب ۲۵ کی تشریح میں گذر چکی ہے۔مغفرت کے بعد جب تک رحمت نہ ہو کوئی کامیابی حقیقی نہیں۔کیونکہ مغفرت کا مفہوم سلبی ہے یعنی گناہ کے اثر کا ازالہ اور یہ ایک منفی حیثیت رکھتی ہے۔مگر رحمت مثبت ہے جو بصورت انعامات نازل ہوتی ہے۔غفور : بہت مغفرت کرنے والا۔رحیم : سچی محنت کا بدلہ رحمت سے بار بار دینے والا مغفرت اور رحیمیت کی دونوں صفات پہلو بہ پہلو کام کرتی ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں یہ دونوں صفات اکٹھی رکھی گئی ہیں جس سے ظاہر ہے کہ مغفرت کے حصول کے لئے اعمالِ صالحہ کی ضرورت ہے جو جاذب رحیمیت ہیں۔رحمن کے معنے بلا عمل و محنت رحمت کے سامان بہم پہنچانے والا۔قرآن مجید میں غفور کے ساتھ صفت رحمن کا کہیں ذکر نہیں آیا۔حدیث نمبر ۸۳۴ میں جو دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہے مذکورہ بالا معانی کے پیش نظر بوقت التحیات دہرائی جائے۔دعاؤں میں جب تک اصلی مفہوم مد نظر نہیں ہو گا وہ بلا مغز چھلکا ہوں گی جوردی سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب الآذان، جلد ۲، صفحه ۲۳۵) بَاب ۱۰: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى قُلْ هُوَ الْقَادِرُ (الأنعام : ٦٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تو (اُن سے) کہہ دے: وہ ہر چیز پر قادر ہے ٧٣٩٠: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۷۳۹۰: ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي که معن بن عیسی نے ہمیں بتایا۔عبد الرحمن بن ابی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي قَالَ الموالی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے محمد بن سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ متکدر سے سنا۔محمد نے عبد اللہ بن حسن سے بیان عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي کیا۔وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن عبد اللہ سلمی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ قَالَ كَانَ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو تمام معاملات میں استخارہ