صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 702
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۰۲ ۹۷- كتاب التوحيد جو حکیم نہیں اور عزیز نہیں وہ اوّل تو پر حکمت کلام نہیں کر سکتا اور اگر کوئی بات کرے گا تو اس کے پورا کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو گی۔ان صفات سے یوم آخر کا بھی ثبوت پیش کیا اور بتایا کہ خدائے حکیم کا فعل حکمت سے خالی نہیں ہو سکتا اور بغیر یوم آخرت کے انسانی پیدائش ایک بے حکمت فعل رہ جاتی ہے۔اسی طرح عزیز خدا کا غلبہ کامل اس دنیا میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے یوم آخر کی ضرورت ہے۔اگر کہو اس دنیا میں کیوں نہیں ہو سکتا تو اس کا جواب صفت حکیم ہے یعنی اسی دنیا میں کامل غلبہ ظاہر ہو تو ایمان فضول ہو جاتا ہے۔“ ( تفسير كبير سورة النحل، آیت ۶۱، جلد ۴ صفحه ۱۸۶) وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ انسان کو کامیابی اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب وہ ایک غالب ہستی سے تعلق رکھے جیسے کسی نے " یار غالب شوکه تا غالب شوی “ کہا ہے: اور غالب ہستی سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔مگر محض غلبہ کے نتیجہ میں چونکہ یہ ڈر بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگ نا انصافی کا شکار نہ ہو جائیں اس لئے خدا تعالیٰ صرف عزیز ہی نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے یعنی اس کے تمام کام اور تمام حکم حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ان میں کسی ظلم یا حق تلفی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔پس انسان کی سلامتی کی یہی راہ ہے کہ وہ عنکبوت کی سی خیالی پناہ گاہوں کو چھوڑ کر عزیز اور حکیم خدا سے اپنا تعلق پیدا کرے۔“ ( تفسير كبير ، سورة العنكبوت آیت ۴۳، جلد۷ صفحه ۶۳۶) باب ۸ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ (الأنعام : ٧٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق ( و حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے ٧٣٨٥ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ۷۳۸۵: قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج