صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 701 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 701

صحیح البخاری جلد ۱۶ 2+1 ۹۷ - كتاب التوحيد جس کی کوئی مثل نہیں۔اَلْمُعِز بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور وہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عزت عطا کرتا ہے۔العز ذلت کے مقابلے پر عزت استعمال ہوتا ہے العز کا اصل مطلب قوت، شدت اور غلبہ ہے ، الْعِزُّ وَالْعِزَّةُ کے معانی ہیں الرِّفْعَةُ وَالْإِمْتِنَاعُ۔وہ بلندی کہ جس تک رسائی نہ ہو سکے۔اس ساری وضاحت کا خلاصہ یہ نکلا کہ عزیز خدا تعالیٰ کا نام ہے جو کاملیت اور جامعیت کے لحاظ سے صرف خدا تعالیٰ پر ہی صادق آتا ہے اور وہی ہے جس کی طرف تمام عزتیں منسوب ہیں۔وہی ہے جو اپنے پر ایمان لانے والوں اور اپنے رسول کو طاقت و قوت عطا فرماتا ہے جو ان کے غلبہ کا موجب بنتی ہے۔پس اس غالب اور سب طاقتوں کے مالک خدا سے تعلق جوڑنا ہی ایک انسان کو قوت و طاقت عطا فرماتا ہے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۹ / اکتوبر ۲۰۰۷ء، جلد ۵ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴) نیز آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صفت عزیز کا جہاں بیان فرمایا ہے ان آیات میں تقریباً نصف جگہ پر عزیز اور حکیم کو ملا کر بیان کیا ہے۔اتحکیم حکمت والے کو کہتے ہیں۔اور الحكمة سے مراد یہ ہے کہ افضل ترین اشیاء پر افضل علوم کے ذریعہ اطلاع پانا۔اور اس کو بھی اتحکیم کہتے ہیں جو مختلف امور کے اسرارورموز کو مد نظر رکھ کر انہیں عمدگی اور مہارت سے بجالائے۔یعنی افضل ترین اشیاء بہترین اشیاء، مثلاً پیدائش کے لحاظ سے ، خصوصیات کے لحاظ سے ، بناوٹ کے لحاظ سے ، مقام کے لحاظ سے، مرتبہ کے لحاظ سے علم کے لحاظ سے ، غرض ہر لحاظ سے جو بہترین چیزیں ہیں ان کا کامل علم اور مکمل طور پر احاطہ کرنا، یہ حکمت سے مراد ہے۔“ خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۷ / دسمبر ۲۰۰۷ء، جلد ۵ صفحه ۴۹۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الْعَزِیز اور اتحکیم کی صفات آخر میں اس لئے رکھی ہیں تا اس طرف اشارہ ہو کہ غالب ہی اپنی طاقت کا اظہار کر سکتا ہے اور الحکیم ہی حکمتوں کو بیان کر سکتا ہے اس لیے یقیناً اس کی تعلیم اعلیٰ ہو گی اور انسان کی نجات کا موجب ہو گی۔ورنہ