صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 700
صحیح البخاری جلد ۱۶ فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ۔أطرافه: ٤٨٤٨، ٦٦٦١- L ۹۷ - كتاب التوحيد ادھر ادھر ہٹ کر سمٹ جائیں گی پھر کہے گی : بس بس تیری عزت اور تیری عظمت کی ہی قسم اور جنت میں ہمیشہ جگہ بچی رہے گی یہاں تک کہ اللہ اس کے لئے ایک مخلوق پیدا کرے گا اور جنت کی بچی ہوئی جگہ میں انہیں آباد کرے گا۔تشریح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَهُوَ الْعَزِيزُ الْلحكيم: اللہ تعالی کا یہ فرمانا اور وہ کامل طور پر غالب ( اور ) صاحب حکمت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عزیز ہے مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ الْعَزِیز وہ جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو۔یعنی جو دوسروں کو دبا لے اور اُسے کوئی دبانہ سکے، اس پر غلبہ نہ پاسکے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یعنی وہ یقیناً غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔پھر امام راغب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المنافقون: 9) اس کا ترجمہ ہے اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ہی حاصل ہے۔عزت کا مطلب بھی قوت، طاقت اور غلبہ ہے۔یہ لکھتے ہیں کہ وہ عزت جو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کو حاصل ہے یہی ہمیشہ باقی رہنے والی دائمی اور حقیقی عزت ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ آیت مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا، اس کے معنی ہیں کہ جو شخص معزز بنا چاہتا ہے اُسے چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے عزت حاصل کرے۔کیونکہ سب قسم کی عزت خدا ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔امام راغب قرآنی آیات کے حوالے سے ہی عموماً معافی بیان کرتے ہیں۔پھر لسان العرب میں اس کے معنی یوں بیان ہوئے ہیں۔العزیز اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔زجاج کہتے ہیں کہ عزیز وہ ذات ہے جس تک رسائی ممکن نہ ہو اور کوئی شے اسے مغلوب نہ کر سکتی ہو۔بعض کے نزدیک الْعَزِیزُ وہ ذات ہے جو قوی ہو اور ہر ایک چیز پر غالب ہو۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ الْعَزِیزُ وہ ذات ہے