صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 47
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۷ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔ ٦٩٣٨ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۶۹۳۸: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہم سے أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ بیان کیا۔ معمر نے زہری سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میں سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ غَدَا نے حضرت عتبان بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے : عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے میرے فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ پاس آئے تو ایک شخص نے کہا: مالک بن وخشن فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ کہاں ہے؟ تو ہم میں سے ایک نے کہا: وہ منافق اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَقُولُونَهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! یہ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ؟ قَالَ بات مت کہو۔ وہ اللہ کی رضا مندی چاہتے ہوئے بَلَى قَالَ فَإِنَّهُ لَا يُوَافَى عَبْدٌ يَوْمَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کرتا ہے۔ اُس نے کہا: ہاں۔ الْقِيَامَةِ بِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ آپ نے فرمایا کہ جو بندہ بھی قیامت کے دن اس بات کا اقرار کرتے ہوئے حاضر ہو گا تو اللہ ضرور اس پر آگ کو حرام قرار دے گا۔ أطرافه: ٤٢٤، ٤٢٥، ٦٦٧، ٦٨٦ ، ۸۳۸، ۸۴۰، ۱۱۸۶ ، ٤۰۰۹ ، ٤٠١٠، ٥٤٠١ ، ٦٤٢٣- ٦٩٣٩ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۱۹۳۹ : موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنِ عَنْ فُلَانٍ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حصین (بن قَالَ تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحِبَّانُ بن عبد الرحمن سلمی) سے چھین نے فلاں شخص سے م سے روایت عَطِيَّةَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِحِبَّانَ لَقَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ کی۔ اُس نے کہا: ابو عبد الرحمن (عبد اللہ بن ربیعہ ) اور حبان بن عطیہ دونوں آپس میں جھگڑ پڑے تو ابو عبد الرحمن نے حبان سے کہا: میں وہ بات خوب عَلَى الدِّمَاءِ يَعْنِي عَلِيًّا قَالَ مَا هُوَ لَا جانتا ہوں جس نے تمہارے ساتھی کو خونریزی پر أَبَا لَكَ؟ قَالَ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ۔ قَالَ جرات دلائی یعنی حضرت علی کو۔ حبان نے کہا: کیا مَا هُوَ ؟ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ بات ہے ؟ لا أبالك ( تیرا باپ نہ رہے ) ابو عبد الرحمن