صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 48
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۸ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَكُلُّنَا نے کہا: وہی بات ہے جو میں نے اُن کو کہتے ہوئے فَارِسٌ قَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ سنی تھی۔ انہوں نے کہا: وہ کیا؟ (انہوں نے کہا) اللہ صلی اللہ وسلم اور حَاجِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ هَكَذَا قَالَ حضرت علی کہتے تھے کہ رسول الہ کی عوام نے مجھے اور زبیر اور ابو مرید کو بلا بھیجا اور ہم سب شہسوار تھے۔ أَبُو عَوَانَةَ حَاجٍ فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا آپؐ نے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ جب روزہ حاج میں صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ پہنچو ، ابو سلمہ نے اسی طرح کہا (ابو عوانہ نے خاخ کے إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَأْتُونِي بِهَا ، فَانْطَلَقْنَا بدلے حاج کہا) تو وہاں ایک عورت ہوگی، اُس کے عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکوں قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے نام ہے تو تم وہ خط میرے پاس لے آؤ۔ ہم اپنے وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے اور جاکر اُس کو وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا وَ كَانَ مد الله وہیں پایا جہاں رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تھا۔ وہ اپنے كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللهِ اونٹ پر سوار جارہی تھی اور حاطب نے اہل مکہ کو لکھا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقُلْنَا أَيْنَ تھا کہ رسول اللہ صلی علیم ان کی طرف آرہے ہیں۔ ہم الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟ قَالَتْ مَا مَعِي نے کہا: وہ خط کہاں ہے جو تمہارے پاس ہے ؟ وہ کہنے كِتَابٌ، فَأَنَحْنَا بِهَا بَعِيرَهَا فَابْتَغَيْنَا گئی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کے اونٹ کو مع اس کے بٹھایا اور اس کے اسباب میں فِي رَحْلِهَا فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا فَقَالَ تلاش کرنے لگے مگر ہمیں کوئی خط نہ ملا۔ میرے صَاحِبَايَ مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا۔ قَالَ دونوں ساتھیوں نے کہا: ہم اس کے پاس کوئی خط فَقُلْتُ لَقَدْ عَلِمْنَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللهِ نہیں دیکھتے۔ حضرت علی کہتے تھے۔ میں نے کہا: ہم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَلَفَ عَلِيٌّ خوب جانتے ہیں کہ رسول اللہ سلیم نے بھی غلط نہیں وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ کہا۔ اس کے بعد حضرت علی نے قسم کھائی ۔ اس ذات کی قسم ہے کہ جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تمہیں أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وہ خط نکالنا ہو گاورنہ میں تمہاری جامہ تلاشی لوں گا۔ وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتِ یہ سن کر اُس نے اپنے نیفہ کی طرف ہاتھ جھکایا اور وہ الصَّحِيفَةَ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله ایک چادر باندھے ہوئے تھی اور وہ خط نکالا اور خط