صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 679
صحیح البخاری جلد ۱۶ عن ۶۷۹ امامہ تھیں۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۹۹ تا ۲۰۰) ۹۷ - كتاب التوحيد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دفعہ بلانے پر جو نہیں گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صحابہ سے ایک مشورہ میں مشغول تھے۔آپ نے یہ دیکھا کہ لوگ مشورہ کے لئے جمع ہیں اور مشورہ نا تمام چھوڑنا مناسب نہیں۔اس لئے اپنی بیٹی کو صبر کی تلقین فرمائی لیکن جب آپ کی صاحبزادی بچے کی نازک حالت دیکھ کر گھبرا گئیں اور قسم دے کر بلا بھیجا تو آپ گئے۔آنسوؤں کے جاری ہونے سے ظاہر ہے کہ آپ کیسے رحیم تھے اور آپ کا دل کیسا رقیق تھا۔امام بخاری نے اس واقعہ سے ایک لطیف استدلال کیا ہے اور وہ یہ کہ شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں میت پر نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے اور صبر کی تلقین کی ہے وہاں یہ سبق بھی دیا ہے کہ اس ممانعت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان جذبات شفقت و رحمت سے خالی ہو جائے۔اسلام کی تعلیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ دونوں افراط و تفریط <6 سے پاک اور حد اعتدال پر واقع ہیں۔( صحیح بخاری، ترجمه و شرح، کتاب الجنائر ، باب قول النبي ﷺ يُعَذِّبُ البَيْتُ۔۔۔جلد ۲ صفحه ۲۲۸،۲۶۷) باب ۳ دو قَوْلُ اللهِ تَعَالَى اِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَيِّين (الذاريات: ٥٩) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یقینا اللہ ہی ہے جو بہت رزق دینے والا، صاحب قوت ( اور ) مضبوط صفات والا ہے ۷۳۷۸: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ :۷۳۷۸ عبدان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ نے ابو حمزہ سے ، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ سَعيد بن جبیر سے، سعید نے ابو عبد الرحمن سلمی أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِي قَالَ قَالَ النَّبِيُّ سے، ابو عبد الرحمن نے حضرت ابو موسیٰ اشعری صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللهِ يَدَّعُونَ لَهُ نے فرمایا: تکلیف دہ باتوں کے سننے پر اللہ سے