صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 663
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۷۳ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ مَا لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے اللہ کی حمد و تُشِيرُونَ عَلَيَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي مَا ثنا بیان کی اور فرمایا: تم مجھے ایسے لوگوں کے متعلق عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَعَنْ کیا مشورہ دیتے ہو جو میرے گھر والوں کو بُرا بھلا عُرْوَةَ قَالَ لَمَّا أُخْبِرَتْ عَائِشَةُ بِالْأَمْرِ کہتے ہیں؟ مجھے ان کے متعلق کبھی کوئی بُری بات قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنَّ معلوم نہیں ہوئی۔ اور عروہ سے مروی ہے کہ انہوں أَنْطَلِقَ إِلَى أَهْلِي فَأَذِنَ لَهَا وَأَرْسَلَ نے کہا: جب حضرت عائشہ کو یہ واقعہ بتایا گیا تو وہ مَعَهَا الْغُلَامَ وَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت دیتے سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ تَتَكَلَّمَ ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ بهذا سُبْحَنَكَ هُذَا بُهْتَانَ عَظِيمٌ ) آپ نے اجازت دی اور ان کے ساتھ خادم بھیجا اور انصار میں سے ایک شخص کہنے لگا: پاک ذات (النور: ١٧)۔ ہے تو، ہمیں شایاں نہیں کہ ہم ایسی بات کریں، پاک ذات ہے تو۔ یہ بہت ہی بڑا بہتان ہے۔ أطرافه: ٢٥٩٣، ٢٦٣٧، ٢٦٦١ ، ۲٦٨٨، ۲۸۷۹، ٤۰۲۵، ٤١٤١، ٤٦٩٠، ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، ٤٧٥٧ ٥٢١٢، ٦٦٦٢، ٦٦٧٩، ٧٣٦٩، ٠٧٥٠٠ ٧٥٤٥ تشریح : قَوْل قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَ أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمُ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور ان کا طریق یہ ہے کہ اپنے ہر معاملہ کو باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ آمُرُهُمْ شُوری بينهم - اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔ مشورہ بہت ضروری اور مفید چیز ہے، بغیر اس کے کوئی کام مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہیئے کہ ایسی اغراض جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے اُن کے متعلق مختلف جماعت کے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لے لیا جائے تا کہ کام میں آسانی پیدا ہو جا پیدا ہو جائے یا ان احباب کو ان ضروریات کو احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے ؟ اپتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں، تو یہ مجلس شورای ہے۔“ (خطابات شورای، جلد اول صفحہ ۴،۳) ८८