صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 662
صحیح البخاری جلد ۱۶ تَصْدُقْكَ فَقَالَ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَريبُكِ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَمْرًا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ ۶۶۲ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ فَأَمَّا أُسَامَةُ که ان دونوں سے پوچھیں اور آپ اپنی زوجہ کے فَأَشَارَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ جدا کرنے کے متعلق ان سے مشورہ لینا چاہتے تھے۔وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقِ اللهُ عَلَيْكَ حضرت اسامہ نے تو اسی کے مطابق مشورہ دیا جو وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ وہ آپ کی زوجہ کی بریت کے متعلق جانتے تھے اور حضرت علی نے کہا: اللہ نے آپ پر تنگی نہیں کی اور اس کے سوا اور عورتیں بہت ہیں اور آپ اس خادمہ لڑکی سے پوچھیں وہ آپ سے سچ سچ بیان کر دے گی تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے بھی کوئی ایسی أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ بات دیکھی جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو؟ وہ بولی: میں فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ نے اس سے زیادہ کبھی کوئی بات نہیں دیکھی کہ وہ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَّعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي ایک کم سن لڑکی ہے، اپنے گھر والوں کا آٹا چھوڑ کر أَذَاهُ فِي أَهْلِي وَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى سو جایا کرتی ہے اور گھر کی بکری آتی ہے تو وہ آٹا کھا أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا فَذَكَرَ بَرَاءَةَ عَائِشَةَ جاتی ہے۔آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت ! میری طرف سے کون اس شخص سے نپٹے گا کہ جس نے مجھے میری زوجہ کے متعلق تکلیف پہنچائی ہے؟ اللہ کی قسم! میں اپنی زوجہ کے متعلق خیر ہی جانتا ہوں اور آپ نے حضرت عائشہ کی بریت کا ذکر کیا اور ابو اسامہ نے بھی ہشام وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ۔سے نقل کیا۔أطرافه: ٢٥٩٣، ٢٦٣٧، ٢٦٦١، ٢٦٨٨، ۲۸۷۹، ٤۰۲۵، ٤١٤١، ٤٦٩٠، ٤٧٤٩، -٠ ٧٥٤٥۷٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،٦٦٦٢، ٦٦٧٩ ،۱۲۱۲ ،۱۷٤٧٥٠ ٥٧ ۷۳۷۰: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ۷۳۷۰: محمد بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ یچی حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ بن ابى زكریاء عنسانی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ہشام سے ، ہشام نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم